برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے والوں کے لیے مستقل رہائش کا حصول 20 سال بعد ممکن ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود پیر کے روز ملک کی پناہ گزین پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کریں گی، جن کے تحت برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے والوں کو اب مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے 20 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی ہجرت اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ آنے والوں کی تعداد میں کمی لانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ نئی پالیسی کے مطابق پناہ ملنے کے بعد اب لوگوں کو مستقل نہیں بلکہ عارضی حیثیت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: خدمات اور وفاداری کا اعتراف، عمان کی جانب سے 45 افراد کو شہریت دینے کا شاہی فرمان جاری
موجودہ قانون کے تحت پناہ گزینوں کو 5 سال کا اسٹیٹس ملتا ہے جس کے بعد وہ مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، لیکن نئی پالیسی کے مطابق یہ ابتدائی مدت کم کر کے صرف ڈھائی سال کر دی جائے گی۔ اس مدت کے اختتام پر پناہ گزینوں کی حیثیت دوبارہ جانچی جائے گی اور اگر ان کے آبائی ممالک کو برطانیہ محفوظ قرار دے دے تو انہیں واپس جانے کا کہا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ: افغان شہریوں کو شہریت دینے سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل
مستقل رہائش کے حصول کے لیے اب مسلسل 20 سال تک اس حیثیت کو برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔ یہ حکمتِ عملی ڈنمارک کی سخت ترین پناہ پالیسیوں سے متاثر نظر آتی ہے، جہاں مہاجرین کو 2 سال کے لیے عارضی رہائش دی جاتی ہے اور اس کے بعد ان کی حیثیت دوبارہ زیرِ جائزہ آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانیہ تارکین وطن شہریت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ تارکین وطن شہریت مستقل رہائش کے لیے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔