علامہ اقبال کے کلام میں جا بجا کشمیری مسلمانوں کی غلامی کا ذکر موجود ہے اور انہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ کشمیر کی حالت زار پر فارسی اور اردو کلام میں نہ صرف دکھ کا اظہار کیا بلکہ ان کے دکھوں کا موثر عندیہ بھی دیا۔ اسلام ٹائمز۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ علامہ اقبال برصغیر کی ایسی تابناک شخصیت تھے جن پر ملت اسلامیہ ہمیشہ فخر کرتی رہے گی، وہ ایک عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک ماہر قانون اور صاحب بصیرت سیاستدان بھی تھے، اتحاد مسلمانوں کے لیے اقبال کا پیغام ہے تاکہ ملت اسلامیہ ہر طرح کے سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی سامراج کے مقابلے میں مضبوط اور توانا قوت بن کر ابھرے اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے موثر کردار ادا کر سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شاعر مشرف حضرت علامہ اقبال کے یوم ولادت کے موقع پراپنے پیغام میں کیا۔صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ علامہ اقبال نے اپنے کلام کے ذریعہ جہاں ساری دنیا کے مسلمانوں کو ان کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتے ہوئے نئی زندگی کے نئے تقاضوں میں سرگرم حصہ لینے کیلئے آمادہ کیا وہیں پر انہوں نے کشمیری عوام کے اضطراب اور زبوں حالی کا خاص طور پر ذکر کیا، ان کے کلام میں جا بجا کشمیری مسلمانوں کی غلامی کا ذکر موجود ہے اور انہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ کشمیر کی حالت زار پر فارسی اور اردو کلام میں نہ صرف دکھ کا اظہار کیا بلکہ ان کے دکھوں کا موثر عندیہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اتفاق و اتحاد کے ذریعہ ہی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو زندگی کے ہر موڑ پر سخت محنت اور ریاضت سے کام کرنے اور دوسروں کے سامنے سرنگوں ہونے سے بچنے کی تلقین کی۔ کشمیری عوام اپنی جدوجہد شدومد سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور انشاء اللہ وہ دن زیادہ دور نہیں جب وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ اقبال کلام میں انہوں نے کے ذریعہ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل