سرکاری اسکولوں کو 50کمپیوٹرز کی فراہمی گلبرگ ٹائون کا تحفہ ہے ، منعم ظفر خان
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ تعلیم سے ترقی کا سفر جماعت اسلامی کا وژن ہے ، موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے ، گلبرگ ٹائون کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے لیے 50کمپیوٹرز کی فراہمی ایک قیمتی تحفہ ہے ، ٹیکنالوجی امپاور منٹ کے نام سے گلبرگ ٹائون کی یہ کاوش لائق تحسین ہے اور اس پر ٹائون چیئر مین سمیت ٹائون کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ، جماعت اسلامی کا عزم ہے کہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے اور تعلیم و صحت سمیت ہر شعبے میں اہل کراچی کی خدمت کرتے رہیں گے ، منعم ظفر خان نے وزیر اعظم کی کراچی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 6 ماہ بعد شہباز شریف کراچی آئے ہیں جب وہ وزیر اعظم نہیں تھے توانہوں نے کہا تھا کہ میں کراچی کو پیرس بنا دوں گا ، ہم ان سے کہتے ہیں کہ آپ کراچی کو پیرس نہ بنائیں ، کراچی کو اس کا حق دیں ، کراچی جتنے وسائل دیتا ہے اسے وہ وسائل واپس لوٹا دیں ، ہم خود کراچی کو تعمیر بھی کریں گے اور ترقی بھی دیں گے ،اس کی رونقیں بحال کریں گے ، یہ شہرا ہمارا ہے ، ہم اس کے ہیں اور ہم اہل کراچی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈل بی ایریا بلاک 17میں رابعہ بصری گورنمنٹ گرلز اسکول کے آڈیٹوریم میں 50کمپیوٹرز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب اور بلاک 18میں سمن آباد ہیلتھ کیئر یونٹ کے دورے کے موقع پر ڈاکٹروں و اسٹاف سے ملاقات و میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب میں مختلف اسکولوں کی پرنسپلز ، اساتذہ ، والدین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج ، ٹائون چیئر مین گلبرگ نصرت اللہ ، ٹائون میونسپل کمشنر عبد الحمید ، ڈائریکٹر پارک ایڈ لینڈ ندیم حنیف ، اسکول پرنسپل عائشہ قمر ، محترمہ نشاط ، سائزہ کامران و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ منعم ظفر خان نے سمن آباد ہیلتھ کیئر یونٹ میں ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل اسٹاف ، علاج کے لیے آنے والے مریضوں سے ملاقات اور فراہمی کی سستی طبی سہولیات کا جائزہ لیا ، منعم ظفر خان نے تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اپنے 9ٹائونز کے تحت آنے والے اسکولوں اور صحت کے مراکز کو بہتر اور بحال کر رہی ہے ، 2001سے2005کے دوران نعمت اللہ خان کے دور میں بھی جماعت اسلامی نے شہر میں 32نئے کالجز قائم کیے اور 6کالجوں میں آئی ٹی ایجوکیشن شروع کی گئی جبکہ ان کے بعد گزشتہ 20برس کا جائزہ لیا جائے تو 10سے 12کالجز سے زیادہ نہیں بنے اور آج صورتحال یہ ہے کہ آئی ٹی ایجوکیشن کی بات تو بہت کی جاتی ہے لیکن عملاً کچھ نہیں کیا جاتا ، اسکولوں اور کالجوں میں کمپیوٹر تک موجود نہیں ہیں ، پیپلز پارٹی 17برس سے سندھ پر مسلط ہے اور اس نے تعلیم اور صحت سمیت ہر شعبے کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے ، صوبے سندھ کا تعلیم بجٹ 613ارب روپے جبکہ صحت کا 371ارب روپے ، جو کل ملا کے 1 ہزار ارب روپے بنتا ہے لیکن اسپتالوں میں مریضوں کو اور نہ اسکولوں و کالجوں میں طلبہ و طالبات کو بنیادی سہولیات میسر ہیں ، صوبہ سندھ میں 78لاکھ بچے ایسے ہیں جن کی عمر 5سے 16سال تک کی ہے اور ان کو اسکولوں میں ہونا چاہیے تھا مگر وہ تعلیم سے محروم ہیں اور پورے ملک میں ان بچوں کی تعداد 2کروڑ 62لاکھ ہے جبکہ آئین کی دفعہ 25-Aکے تحت مفت تعلیم کی فراہمی حکومت و ریاست کی ذمے داری ہے ۔ تعلیم ، صحت اور عوام خدمت ہی ہمیشہ جماعت اسلامی کی ترجیح رہی ہے اور گزشتہ 2سال کے دوران بھی ہم ان ہی خطوط پر عمل کر رہے ہیں ، جماعت اسلامی نے حکومت میں نہ ہونے کے باوجود کراچی میں بنوقابل آئی ٹی پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کرانے کا سلسلہ شروع کیا اور اب تک 50ہزار سے زائد طلبہ و طالبات مفت آئی ٹی کے کورسز کر کے اپنے اہل خانہ کا سہارا بن چکے ہیں جبکہ بنو قابل پروگرام میں 12لاکھ نوجوان رجسٹریشن کراچکے ہیں ، ہم نے اپنے ٹائون میں 42سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر کر کے ان کو بحال کیا جس کے نتیجے میں ان اسکولوں میں 7ہزار طلبہ و طالبات کی رجسٹریشن کا اضافہ ہوا ۔
اسٹاف رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلبہ و طالبات جماعت اسلامی کراچی کو ا ئی ٹی ہے اور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں