ایران میں بدترین خشک سالی، شہریوں کو تہران خالی کرنا پڑسکتا ہے، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
ایرانی دارالحکومت تہران میں عوامی سطح پر خشک سالی اور پانی کے بحران کے پیش نظر بارشوں کیلئے کے لیے دعائیں مانگی جارہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پانی کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں خشک سالی جاری رہی تو تہران جو کہ 1 کروڑ سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جلد ہی ناقابل رہائش ہو سکتا ہے۔
ایرانی خواتین نے تہران میں امام زادہ صالح کے مزار پر بارش کے لیے دعائیں کیں۔ صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دسمبر تک بارشیں نہیں آتی ہیں تو حکومت کو تہران میں پانی کی فراہمی کیلئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ہم راشن کا بندوبست کر بھی لیتے ہیں لیکن بارشیں نہیں ہوتیں، تب بھی ہمارے پاس پانی بالکل نہیں ہوگا اور ایسی صورت میں شہریوں کو تہران سے نکلنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ شدید گرمی کے بعد ایران میں پانی کا بحران صرف کم بارشوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ درجنوں ناقدین اور آبی ماہرین نے گزشتہ دنوں ریاستی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز میں بتایا ہے کہ کئی دہائیوں کی بدانتظامی، بشمول ڈیموں کی اوور بلڈنگ، غیر قانونی کنوؤں کی کھدائی اور غیر موثر زرعی طریقوں نے ملک میں پانی کے ذخائر کو ختم کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔