اسٹارلنک پر صرف ویب براؤزنگ سے بھی آپ مارس مشن کی فنڈنگ کا حصہ بن رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
یہ بات اگرچہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی لیکن یہ سچ ہے کہ اسٹارلنک انٹرنیٹ پر صرف ویب براؤزنگ کرنے سے بھی آپ کمپنی کے مارس مشن کو فنڈ دیتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹارلنک انٹرنیٹ پر صرف ویب براؤزنگ کرنے سے صارفین بالواسطہ اسپیس ایکس کی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں اور اسپیس ایکس اپنی مجموعی آمدنی کا کچھ حصہ اسٹار شپ اور مستقبل کے منصوبوں جن میں مارس مشن بھی شامل ہے، پر خرچ کرتا ہے۔
اس کا طریقہ کار کچھ ہوں ہے؛
1) آپ اسٹارلنک انٹرنیٹ استعمال کرنے کیلئے فیس دیتے ہیں۔
2) یہ فیس اسٹارلنک کے آپریشنز اور ترقی پر خرچ ہوتی ہے۔
3) اسٹارلنک کا منافع اور اسپیس ایکس کی مجموعی آمدنی دونوں مل کر کمپنی کے بڑے منصوبوں کو فنڈ کرتی ہیں۔
4) ان بڑے منصوبوں میں مارس مشن بھی شامل ہے جو کمپنی کی ایک اہم ٹیکنالوجی ہے۔
مختصراً یہ کہ اگر آپ اسٹارلنک استعمال کر رہے ہیں تو آپ خود بہ خود اسپیس ایکس کے مارس پروگرام کو سپورٹ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔