بھارتی آرمی چیف کا باہمی تضادات اور ذہنی انتشار سے بھرا بیان، عسکری قیادت شدید ذہنی بوکلاہٹ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
بھارتی آرمی چیف کا باہمی تضادات اور ذہنی انتشار سے بھرا بیان، عسکری قیادت شدید ذہنی بوکلاہٹ کا شکار ہے۔
معرکۂ حق میں بدترین ناکامی اور عالمی سطح پر رسوائی نے بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دباؤ میں دھکیل دیا ہے، عسکری کمزوریوں، بدترین آپریشنل کارکردگی اور اتمانبھر بھارت کی ناکامیاں دفاعی ڈھانچے کو لاغر ثابت کر چکی ہیں۔
مودی سرکار کی ہندوتوا زدہ سیاسی ذہنیت نے عسکری قیادت پر غیرمعمولی سیاسی دباؤ مسلط کر رکھا ہے، جہاں وہ فلمی طرز کے بیانیے پیش کر کے اپنے آپ کو مہاتما ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
ایسی کشمکش میں کبھی تین مہینے بعد سات طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
اسی سلسلے میں بھارتی آرمی چیف نے ایک اور متضاد اور کنفیوژن بھرا بیان دے کر صورتحال کو مزید مضحکہ خیز بنا دیا۔
ایک طرف دعویٰ ہے کہ “ہندوستان نے کچھ اسلحہ استعمال کر کے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا”، دوسری طرف اعتراف یہ ہے کہ “ایسی جنگ جیتنے کے لیے مزید اسلحہ خریدنا پڑے گا”
یہ تضاد بھارتی عسکری قیادت کی بوکلاہٹ، غیرسمجھی اور عدم تیاری کا ثبوت ہے *آپریشن سندور* میں جھوٹی فتح کے ڈھول پیٹنے والے بھارتی آرمی چیف دراصل اپنی خفت مٹانے اور اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ میں جنرل اوپیندر دویدی کا دھمکی آمیز مگر کمزور بیانیہ بھی اسی پریشانی کا اظہار ہے، جس میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ؛ "آپریشن سندور میں تو صرف ٹریلر دکھایا گیا، فلم تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی"
اور پھر بھارتی آرمی چیف اسی سانس میں اپنے دفاعی کمزوریاں کھول کر رکھ دیتے ہیں؛ "کیا ہمارے پاس طویل جنگ کے لیے کافی ساز و سامان اور ہتھیار ہیں ؟ اگر نہیں تو فوری تیاری کی ضرورت ہے"
یہ اعترافات بھارتی فوج کی *کمزور پیشہ وارانہ صلاحیت، نااہل سیاسی قیادت، اور ناکام دفاعی منصوبہ بندی* کے زندہ ثبوت ہیں اور ساتھ ہی اس حقیقت کا اظہار کہ بھارتی عسکری قیادت اس وقت پالیسی، حکمتِ عملی اور تیاری، تینوں محاذوں پر شدید ذہنی انتشار سے گزر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی آرمی چیف عسکری قیادت
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔