خیبر پی کے میں دہشتگردی خود ساختہ، وفاق ہمارے 3 ہزار ارب نہیں دے رہا: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
لوئر دیر (نوائے وقت رپورٹ+نامہ نگار) وزیر اعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی خودساختہ شروع کی گئی ہے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاق سے این او سی نہیں مل رہا ہے اور وفاق ہمارے 3 ہزار ارب روپے بھی نہیں دے رہا ہے۔ لوئردیر میں 41 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل کوٹو ہائیڈیل پاور پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپی کے سستی بجلی پیدا کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے، بانی نے جو منصوبے شروع کیے تھے، اس پر فخر ہے اور ان کے تمام منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے این او سی نہیں مل رہے ہیں، جس کی وجہ سے صوبے کو مشکلات کا سامنا ہے، صوبے میں دہشت گردی خود ساختہ شروع کی گئی ہے، اس وجہ سے صوبے کی معیشت ترقی نہیں کر رہی ہے۔ سہیل آفریدی نے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔