قومی کرکٹر حسن نوازکےگھربیٹےکی ولادت
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان کے نوجوان کرکٹر حسن نواز کے گھر خوشی کی خبر آئی ہے، ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حسن نواز اور ان کے اہل خانہ نے نومولود کا نام محمد ابراہیم رکھا ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پر مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے انہیں مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جبکہ حسن نواز نے بھی مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں قومی سلیکشن کمیٹی نے شارجہ کے تین ملکی ٹورنامنٹ، ایشیا کپ، جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز میں حسن نواز کی مسلسل ناقص کارکردگی کے بعد انہیں سری لنکا کے خلاف سیریز کے اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا تھا، اور ان کی جگہ تجربہ کار اوپنر فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق حسن نواز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر توجہ دیں اور قائداعظم ٹرافی کے ساتویں مرحلے میں شرکت کریں، جو 11 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ حسن نواز کے پاس اپنی فارم بحال کرنے اور دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حسن نواز
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔