بھارت کو ویمنز کرکٹ ورلڈکپ جتوانے کے بعد کرنٹی گاؤڈ اپنے والد کو انصاف دلوانے کے قریب پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
بھارت کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی 22 سالہ فاسٹ بالر کرنٹی گاؤد نے اپنے ملک کو پہلا آئی سی سی خواتین ون ڈے ورلڈ کپ جتوایا اور یہ کامیابی نہ صرف ملک بلکہ ایک خاندان کے لیے بھی تھی جس نے 13 سال تک انصاف اور پہچان کا انتظار کیا۔
جمعہ کو بھوپال میں ایک تقریب میں مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کرنٹی گاؤد کو شاندار کارکردگی پر اعزاز سے نوازا۔ وزیراعلیٰ نے کرنٹی کے والد کو بحال کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی اور کہا کہ ریاستی حکومت کے پاس اپیل کا حق موجود ہے۔ ہم موجودہ قوانین کے مطابق آپ کے والد کی بحالی پر کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ویمنز ورلڈ کپ: بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل جیت لیا
کرنٹی کے والد مننا لال گاؤد ایک پولیس کانسٹیبل تھے، جنہیں 2012 میں الیکشن ڈیوٹی کے دوران معطل کر دیا گیا تھا۔ تب سے، چھترپور ضلع کے گھوراڑا گاؤں میں رہنے والے اس خاندان نے غربت اور سماجی تضحیک کا سامنا کیا۔ کرنٹی کے بھائی روزانہ مزدوری اور بس کنڈکٹر کے کام کرتے رہے تاکہ خاندان کا گذارا ہو سکے۔
ان مشکلات کے باوجود، کرنٹی نے دیہی میدانوں سے عالمی سطح تک کا سفر طے کیا۔ ان کے 3 اوورز میں صرف 16 رنز دینے سے بھارت کو خواتین کرکٹ میں پہلا عالمی ٹائٹل دلایا۔ ان کی والدہ نیلم سنگھ گاؤد جشن کے دوران خاموشی سے روئیں، جبکہ بہن بھائی فخر سے میڈیا سے بات کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: سدرہ امین آئی سی سی ویمنز پلیئر آف دی منتھ کے لیے نامزد
ان کی بڑی بہن روشنی سنگھ گاؤد نے کہا کہ لوگ اسے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے پر مذاق کا نشانہ بناتے تھے، لیکن کرنٹی رکی نہیں۔ کوچ راجیو برتھاری نے اس کی صلاحیت دیکھی اور یہی نقطہ آغاز تھا۔
ڈاکٹر یادو نے اعلان کیا کہ 15 نومبر کو جابالپور میں کرنٹی کو ریاستی سطح کا اعزاز دیا جائے گا اور چھترپور میں نئے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر ہوگی۔ گاؤد خاندان کے لیے یہ امید کا لمحہ ہے کہ ان کی جدوجہد اور قومی فخر ایک ساتھ منائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کرکٹ ویمنز ورلڈ کپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کرکٹ ویمنز ورلڈ کپ کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔