Express News:
2026-07-24@16:02:45 GMT

زباں فہمی267 ; عربی اسمائے معرفہ اور ہمارے ذرایع ابلاغ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT

ہمارے ذرایع ابلاغ (عُرف میڈیا) کی مثال خودرَو جنگل کی سی ہے کہ بس کسی نے کوئی تخم ڈالا نہ ڈالا، اِدھر اُدھر سے، ہوایا بارش یا کسی اور وسیلے سے تخم ریزی ہوئی اور مخصوص حالات میں یا مخصوص ومحدود ماحول میں بہت سے پودے درخت بنے، جھاڑیاں ۔یا۔ جھاڑ جھنکاڑ بنتے بنتے گویا چند برسوں میں ایک ایسا جنگل کھڑا ہوگیا کہ جس کی حالت میں سُدھار، کسی متعلق فرد یا سرپرست کے بس کی بات نہیں۔ یہ بات شاید بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرے کہ صاحب! اگر آپ کو کوئی پوچھتا نہیں یعنی عوامی بولی (Slang) میں کہیں کہ Lift نہیں کراتا تو آپ ایسے سخت تبصرے کرتے ہیں۔

{کوئی پچیس سال پہلے جب ہمارے خبررَساں ٹیلیوژن چینلز(News TV channels) کا ’’سیلابی در‘‘ (Floodgate) کھُلا تھا تو اِبتدائی برسوں میں (بلکہ مابعد بھی، وقفے وقفے سے) اس راقم کا متعدد چینلز میں جانے اور ’’خوار ‘‘ ہونے کا کئی مرتبہ تجربہ ہوا، ایک بہت بڑے چینل میں ’پیشکش‘ بھی ہوئی جو ہم نے بوجوہ ٹھکرادی.

....اصل بات یہ کہ جب اُس دور میں، خاکسار اپنی عادت سے مجبور ہوکر، ایسے ’ شُترِ بے مہار‘ جیسے چینلز کے متعلق کہیں یوں اظہارِخیال کرتا کہ فُلاں فُلاں معاملے میں، خصوصاً صحتِ زبان کے باب میں، یہ صحیح نہیں یا یُوں نہیں، یُوں ہونا چاہیے تو بعض لوگ چِڑ کر، میرے سامنے ہی ۔یا۔کبھی پیِٹھ پیچھے کہتے ،’’یہ آپ کی Frustration بول رہی ہے ;آپ کو کہیں Chance نہیں ملا تو آپ ایسا کہتے ہیں‘‘۔ یا۔ بعض لوگوں نے یہ کہہ کر اپنی اور ہماری اوقات بتائی کہ ’’اتنے ہی قابل ہوتے تو کسی ٹی وی چینل میں کسی بڑے عہدے پر کام کررہے ہوتے‘‘}۔

یہ چینلز اور پھر اِ ن سے منسلک یا متأثر ہونے والے اخبارات وجرائد نہ صرف اُردو کا ستیاناس کرنے پر تُلے رہتے ہیں، بلکہ حسبِ منشاء دنیا کی ہر زبان کا ہر نام یعنی اسم ِ معرفہ بھی بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنادیتے ہیں۔ پچھلے مضمون میں چند تازہ مثالوں کی بات ہوئی تو لگے ہاتھوں یہ بھی دیکھتے چلیں کہ ہمارے شعبہ خبر کے لوگ، سب سے زیادہ جس زبان کی ایسی تیسی کرتے ہیں، وہ عربی ہے۔ (ہاں جہاں جہاں ان کی لاعلمی عروج پر ہو، انگریزی، فرینچ اور دیگر مغربی زبانوں کے ساتھ بھی سوتیلی ماں والا سلوک کرنے سے نہیں چُوکتے)۔

ماضی میں اس بارے میں متعددکالم اور مضامین لکھے جانے کے باوجود، تصحیح اِملاء و تلفظ کا باب ہنوز نامکمل ہے۔ ہمیں ایک ہی نام بہ یک وقت دس پندرہ یا کبھی تو اِس سے بھی زیادہ ٹی وی چینلز کی خبروں میں غلط سننے کو ملتا ہے اور پھر مَرے پہ سَو دُرّے کے مصداق اخبارات بھی بھیڑچال کا عملی نمونہ فراہم کرنے سے نہیں چُوکتے۔ یہاں مناسب بلکہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے کہ عالمی تناظُر میں بہت عام اور مشہور اسمائے معرفہ کی چند مثالیں پیش کی جائیں جن کا ماخذ عربی ہے اور جو تقریباً تمام اردو چینل (نیز اُن کی تقلید میں مقامی/علاقائی زبانوں کے چینل) ہمیشہ یا اکثر غلط ہی بولتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں شامل، سب سے بڑی ریاست، اَبوظبی کو ہمارے یہاں نہ صرف ذرایع ابلاغ بلکہ عوام وخواص کی غالب اکثریت ’ابوظُہہ۔بِی‘ یا انگریزی کے اثر سے ابو۔دھابی (Abu Dhabi) لکھتی پڑھتی اور کہتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض حضرات ابوظبی ہی میں رہتے ہیں اور جب یہاں پاکستان آتے ہیں تو ابو۔دھابی یا ابودہابی کہتے ہیں۔ اسی طرح امارات میں شامل دوسری ریاست دُبئی کو ہمارے لوگ دو۔بئی لکھ دیتے ہیں، بلکہ بہت پہلے کسی نے مجھے ٹوکا بھی تھا کہ آپ نے دوبئی کو دُبئی کیوں لکھ دیا۔

{عربی سے ہٹ کر بات کروں تو ایک اور لسانی لطیفہ پیش کرسکتا ہوں۔ سندھ کا ایک شہر ہے خیرپُور مِیرس۔ یہ نام انگریز کا دیا ہوا ہے یعنی Khairpur Mirs۔یا۔ مِیروں /ٹالپُروں کا خیرپُور۔ ماضی قریب میں ایسے دو تین افراد سے واسطہ پڑا جو وہیں کے رہنے والے تھے مگر اپنے شہر کا نام ’’خیر پور مِی رَس‘‘ لے رہے تھے}۔

ہمارے ذرایع ابلاغ میں افریقی مسلم ملک الجزائر کو فرینچ/ انگریزی نام الجیریا ( Algeria) سے زیادہ یاد کیا جانے لگا ہے، جس کی کوئی وجہ نہیں۔ اس کا سرکاری نام الجمہوریۃ الجزائریۃ الدیمقراطیہ ) (People's Democratic Republic of Algeria ہے اور اِس کا مختصر نام الجزائر مدتوں سے اردو میں موجود ہے، مگر ہمارے ذرایع ابلاغ سے منسلک بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ یہ نام دارالحکومت الجزائر ہی کے نام پر رکھا گیا ہے مگر اُسے انگریزی میں الجیریا کی بجائے الجیئر (Algiers ) کہتے ہیں (فرینچ لفظ ہے، آخری حرف ساکن کے ساتھ)۔

اَلاَخضَر اَلابرہیمی نہ کہ لخدر براہیمی (Lakhdar Brahimi): اقوام متحدہ کے سابق ایلچی اور الجزائر کے سابق وزیرخارجہ جن کا نام کوئی دس پندرہ سال پہلے بہت زیادہ لیا جاتا تھا (مگر غلط: لخدر) گویا زباں زدِخاص وعام تھا۔ بات کی بات ہے کہ ابراہیم سے ابراہیمی اور پھر براہیمی درست ہے، مگر اصل نام الاخضر یعنی سبز کو بِگاڑ کر ’’لخدر‘‘ کرنا کسی بھی طرح صحیح نہیں!

علامہ اقبال نے کہا تھا:

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں، لا الٰہ اِلّا اللہ

اور اُن کی نظم ’طلوعِ اسلام‘ کے ایک شعر میں ’براہیمی‘ بھی استعمال ہوا:

براہیمی نظر پیدا  مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہَوَس چھُپ چھُپ کے سِینوں میں بنالیتی ہے تصویریں

اسی طرح کا ایک اور نام بھی ماضی میں بہت زیادہ سننے پڑھنے کو ملتا تھا اور وہ بھی غلط: صائب عریقات (فلسطینی مذاکرات کار) کو بزبانِ انگریزی Saeb Erekat لکھا جاتا ہے۔ ہمارے چینلز اور اخبارات نے یہ نام سائب ارکات اور سائب اریکات بنا دیا۔

القاعدہ کو اِس قدر کثرت سے لکھا، پڑھا، پڑھایا اور سُنایا گیا کہ بہت سے لوگ اس کا صحیح املاء ہی بھول گئے یا اُنھوں نے جاننے کی سعی کیے بغیر ’القائدہ‘ لکھنا شروع کردیا، غالباً یہ وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے بچپن میں ’قاعدہ ‘ نہیں پڑھا اور ’قائدہ‘ کہیں لکھا دیکھ کر یاد کرلیا۔ اسی تنظیم کے دوسرے سربراہ کا نام ہمارے یہاں اَیمَن اَلظواہِری ( اَظ۔ظوا۔ہِری: اس نام میں لام نہیں بولا جاتا) کی بجائے ایمن اَلزواہِری لکھا جاتا رہا جو کسی بھی طرح درست نہیں۔ اس غلطی کا سبب انگریزی سے اندھا دُھند نقل اور کسی عربی ماخذ یا کسی بھی عالم فاضل شخص سے معلوم نہ کرنا ہے۔

ہمارے عربی داں دوست جناب عبدالرحمٰن صدیقی بتاتے ہیں کہ ’القاعدہ‘ کا مطلب ہے، اَڈّہ، عمارت کی بنیاد یا ضابِطہ، جبکہ ’القائدہ‘ سے مراد ہے پھیلا ہوا لمبا ٹِیلہ ۔یا۔ آگے رہنے والا (کارواں یا قطار میں) اونٹ۔ اب جنھیں اونٹ کی سواری کا شوق زیادہ ہو، وہ ’القاعدہ‘ نہ لکھا کریں، القائدہ ہی پر ڈٹے رہیں۔

عربی میں ’اَل‘ کا استعمال کلمہ تخصیصی (Definite article) کے طور پر ہوتا ہے۔ یہ چھوٹی سی بات ہمارے خواندہ لوگ عموماً یاد نہیں رکھتے اور اَسمائے معرفہ کے معاملے میں اُلجھن کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ذرایع ابلاغ نے ایک اور عربی لفظ ’آل‘ کو گڈ مڈ کردیا ہے یعنی اگر کسی نے نام کے ساتھ نسبت لگی ہے، آل، تو وہ اسے ’ال‘ بنادیتے ہیں۔ شیخ زایدبن سلطان آل نہیان (6 مئی1918ء تا 2 نومبر 2004ء) کا نام ہمارے یہاں نہ صرف ذرایع ابلاغ میں بلکہ عام گفتگو میں بھی بکثرت غلط لیا جاتا ہے۔ لوگ عموماً شیخ زید ۔بن۔سلطان ۔اَل۔نَہیَان لکھتے پڑھتے اور کہتے سُنائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس ’ال‘ کے استعمال کی مثالیں بھی موجود ہیں:

قطر کے موجودہ اَمیر کا نام شیخ تَمِیم بن حَمَد الثانی (SheikhTamim bin Hamad Al Thani) ہے۔ اُنھیں یار لوگ تمیم بن حماد۔ اَتھ۔تھانی پڑھ دیتے ہیں کیونکہ یہ تو ۹۹ فیصد پاکستانی خواندہ (عرف دیسی انگریزوں) کو معلوم ہی نہیں کہ TH کی آواز، عربی کے ’ث‘ کے مماثل بھی ہے، اسی لیے حدیث کو Hadith لکھا جاتا رہا ہے مگر ہمارے برگر بچّوں کو بہت دِقّت ہوتی تھی، اس لیے آکسفرڈ اور کیمبرج نے اپنا معیار تبدیل کرتے ہوئے Hadeesکو بھی صحیح قرار دے دیا، حالانکہ حدیس کہنے سے یہ کچھ اور ہی ہوجاتا ہے۔

امیر موصوف کے والد مرحوم اور دیگر اَراکین ِ خانہ کو بھی ’حمََد‘ کی بجائے ’حماد‘ (بلکہ بعض جگہ تو میم پر تشدید کے ساتھ) اور اَث۔ثانی کی بجائے اَتھ۔تھانی لکھا، پڑھا اورکہا جاتا رہا ہے۔ ’ال‘ کے استعمال کی ایک اور مثال اُردَن ( نہ کہ اُردُن) کے بادشاہ عبداللّہ اَلثانی کی ہے۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب کے عمائدین کے یہاں ’ال‘ کا استعمال بہت عام ہے، البتہ ’آلِ سعود‘ کو ’اَل۔سعود‘ ۔یا۔ اَس سعود لکھنا اور کہنا درست نہیں!

پچھلے مضمون میں یہ بات لکھنے سے رہ گئی کہ رام اللّہ کے دو معانی ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قدیم کنعانی زبان کے لفظ ’رام‘ بمعنیٰ بلند علاقہ کے ساتھ عربوں نے اللّہ کا اضافہ کرکے اسے خالص اسلامی عربی نام بنادیا گویا مفہوم ہوا، اللّہ کا بلند وبالا علاقہ، دیگر یہ کہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی میں رام کا مطلب ہے ’ارادہ۔یا۔فیصلہ کرنا‘، چنانچہ ’’رام اللّہ‘‘ کا مطلب ہوا: اللّہ نے ارادہ کیا یا اللہ نے فیصلہ کیا۔ میرا لسانی قیاس یہ کہتا ہے کہ پہلی توجیہ ہی صحیح ہے۔

فلسطین کی انتظامیہ کے زیرانتظام، مغربی کنارے کے جنوب میں واقع، علاقہ الخلیل، انگریزی میں Hebron کہا جاتا ہے، مگر تعجب ہے کہ ہمارے یہاں بھی لوگ انگریزی یا صہیونی یہودی/اسرائیلی نام ہیبرون پکارنے اور لکھنے لگے ہیں۔ یہ شہر، یہودیوں کے چار مقدس شہروں میں شامل ہے۔ دیگر تین کے نام یہ ہیں: یروشلم یعنی بیت المقدس، الخلیل، طبریا(Tiberias) اور صَفَد (عبرانی میں زیفاتTzfat or Zefat:) جسے سہواً سفید بھی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح فلسطین ہی کا قدیم علاقہ اَرِیحا بھی ہے جس کا نام اسلامی تاریخ میں بھی منقول ہے، اس کا انگریزی نام Jericho ہمارے یہاں نقل ہورہا ہے۔

مُلک شام کا قدیم اور تاریخی شہر حَلَب، انگریزی میں Aleppo کہلاتا ہے۔ یہ شہر دنیا کے اُن قدیم شہروں میں شامل ہے جو ہزاروں سال سے مسلسل آباد ہیں۔ آرامی (Aramaic) جیسی انتہائی قدیم زبان میں اسے حلبہ (Halba) کہتے تھے، پھر عَکّادی ۔یا۔اَکّادی (Akkadian) زبان میں اسے حَلَب کہا گیا اور یہی نام عربی میں اپنالیا گیا۔ ابنِ بَطّوطہ کے سفرنامے میں مذکور رِوایت کی رُو سے اس شہر کے قدیم مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں اور مسافروں کو اَپنی بکریوں کا دودھ پیش کیا کرتے تھے اور اِسی وجہ سے اس جگہ کو ’’حَلَبِ اِبراہیم‘‘ کہا جانے لگا تھا۔

حَلَب کا نام ہماری اسلامی تاریخ میں بھی بہت مشہور ہوا۔ سپہ سالارِاِسلام ’امین الامّت‘ حضرت ابوعًبیدہ بن الجرّاح (رضی اللہ عنہ‘) نے، سن16ہجری (مطابق 637 عیسوی) میں امیرالمؤمنین سَیّذُنا عمر فاروق (رضی اللہ عنہ‘) کے عہد ِ خلافت میں اسے فتح کرکے اسلامی حکومت کا حصہ بنایا۔ حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ہماری درسی کتب میں یہ نام ہنوز موجود ہے، کوئی نامانوس یا متروک نام نہیں، مگر ہمارے ٹی وی چینلز نے کچھ عرصے سے انگریزی نام اپنالیا ہے، کیونکہ وہاں اتنے پڑھے لکھے لوگ نہیں جو اَصل عربی نام جاننے کی زحمت گوارا کریں۔

رَفَح نامی فلسطینی شہر کو رومن رسم الخط میں Rafah لکھا ہوا دیکھ کر ہمارے چینلز اور اخبارات نے ’’رفاہ‘‘ بنا دیا۔

کرکٹ کے شعبے میں شارجہ کا نام بہت مشہور ہے، یہ اصل میں شارقہ ہے جس کا انگریزی رُوپ ہمارے یہاں اپنالیا گیا اور آج لوگ باگ شارقہ سے واقف نہیں۔ عرب دنیا میں دو نام فقط ہجّے کے فرق سے مختلف ہیں، ورنہ بظاہر ایک ہی ہیں اور اِسی وجہ سے لوگ انھیں گڈ مڈ کردیتے ہیں۔ عَمّان (Amman)، اُردَن کا دارالحکومت ہے جبکہ عُمان (Oman) ایک خلیجی ملک کا نام ہے جس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ ہمارے یہاں اکثر لوگ ان دونوں ناموں کو خلط ملط کرنے کے علاوہ، عُمان کو ’’اومان‘‘ بھی لکھ دیتے ہیں۔ فِلَسطِین کا ایک بڑا شہر ہے نابلُس (Nablus)، اسے ہمارے یہاں سہواً نابلُوس کہا جانے لگا۔ ایک اور فلسطینی شہر ’طولکرِم‘ (Tulkarem) ہے جسے ہمارے یہاں تُلکرم لکھا جانے لگا ہے۔

یہ فہرست بہت طویل ہے مگر قارئین کرام بشمول ذرایع ابلاغ سے متعلق لوگ پہلے اسے ہی پڑھ کر، سمجھ کر، پرچار کریں اور دوسروں کو دعوتِ اصلاح دیں تو سارے نام گنوانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ہدیہ سپاس: اس مضمون کی تیاری میں بزم زباں فہمی کے معزز رُکن اور میرے دیرینہ (غائبانہ) دوست جناب عبدالرحمٰن صدیقی کی نگارش بعنوان ’’اردو ذرایع ابلاغ میں عربی زبان کی بعض عام اغلاط کا جائزہ‘‘، مشمولہ معارف مجلّہ تحقیق، بابت جنوری تا جون 2015ء سے استفادہ کیا گیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہمارے ذرایع ابلاغ ہمارے یہاں کی بجائے دیتے ہیں جانے لگا کے ساتھ جاتا ہے ایک اور اور ا س سے لوگ یہ نام کا نام بہت سے کی بات

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........