بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو انتہا پسندی اور مسلم دشمنی میں خطرناک حد تک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
مدھیہ پردیش میں رواں سال جون میں 11 مسلمانوں کے گھروں کو مبینہ بیف رکھنے کے الزام میں منہدم کیا گیا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے یوگی آدیتہ ناتھ کے بلڈوزر انصاف کو مسلمانوں کیلئے اجتماعی سزا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں ہندوتوا بی جے پی حکومت کے تحت ہندو انتہا پسندی اور مسلم مخالف اقدامات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ قوم پرست گروہ مسلسل مسلمانوں کو "غدار” قرار دیکر انہیں ہراساں، ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ مساجد سمیت مسلمانوں کے مقدس مقامات کو منہدم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاست اتر پردیش کی ہندوتوا بی جے پی حکومت نے ضلع سنبھل میں 30سال قدیم سنبھل مسجد کو غیر قانونی تعمیر قرار دیکر منہدم کر دیا ہے۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بڑھتے ہوئے "بلڈوزر انصاف” مہم کا حصہ ہے۔
مدھیہ پردیش میں رواں سال جون میں 11 مسلمانوں کے گھروں کو مبینہ بیف رکھنے کے الزام میں منہدم کیا گیا۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے یوگی آدیتہ ناتھ کے بلڈوزر انصاف کو مسلمانوں کیلئے اجتماعی سزا اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بھارت میں ڈیجیٹل دنیا میں بھی مسلم دشمنی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی تصاویر میں مسلم خواتین کو "مال غنیمت” کے طور پر دکھایا گیا، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور فیس بک پر بڑے پیمانے پر وائرل کی جا رہی ہیں۔ مئی 2023ء سے رواں سال مئی تک 1,300 سے زائد ایسی تصاویر کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
بھارت میں گزشتہ سال میں مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر میں 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر کے ایک ہزار 165 واقعات میں 98.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے بھارت میں بی جے پی
پڑھیں:
ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا
مطالبہ کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔
اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25
— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔
’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،
خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار
فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری
عائد ہوتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان
نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026
’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا
دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی
تباہی پر فخر کرتے ہیں۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی
کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ