پنجاب پولیس کا ماحولیاتی تحفظ کے لیے کریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
علی ساہی: پنجاب پولیس نے سموگ اور آلودگی کی روک تھام کے لیے صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کر دیں۔
ترجمان پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کریک ڈاؤن میں 14 مقدمات درج اور متعدد قانون شکن گرفتار کیے گئے۔
115 افراد کو 10 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 53 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔ کارروائیوں کے دوران فصلوں کی باقیات جلانے کی 13، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی 86، صنعتی سرگرمیوں کی 5 اور اینٹوں کے بھٹوں کی 10 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔
بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟
رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 1642 مقدمات درج اور 1571 افراد گرفتار کیے گئے۔ 60 ہزار سے زائد افراد پر 15 کروڑ روپے سے زیادہ جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 15 ہزار 806 افراد کو وارننگ جاری کی گئی۔
آئی جی پنجاب نے شاہراہوں، صنعتی علاقوں اور دیگر مقامات پر کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔
پاکستان کے تمام ائیرپورٹس کو کیش لیس بنانے کا فیصلہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کیے گئے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔