اسلام آباد:

پاکستان سمیت دیگر 8 مسلمان ممالک نے اسرائیلی فوج کے مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کے اسکول اور طبی مراکز غزہ میں پناہ گزینوں کے لیے زندگی کی لکیر ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (آر ڈبلیو اے) برائے فلسطینی پناہ گزین کا کردار اہم ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ عشروں سے یو این آر ڈبلیو اے لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو تحفظ، تعلیم، صحت اور ہنگامی امداد فراہم کر رہا ہے اور جنرل اسمبلی سے ایجنسی کے مینڈیٹ کی مزید تین سال کے لیے تجدید کی قرارداد منظور ہونا بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی ہے۔

وزرائے خارجہ نے مشرقی یروشلم کے شیخ جراح محلے میں یو این آر ڈبلیو اے کے ہیڈ کوارٹرز پر اسرائیلی افواج کی یلغار کی سخت مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے مقامات کی حرمت کی واضح خلاف ورزی اور ناقابل قبول تشدد ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی 22 اکتوبر 2025 کے بین الاقوامی عدالت انصاف کے مشاورتی فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا کہ اسرائیل یو این آر ڈبلیو اے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کرے۔

انہوں نے غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے نیٹ ورک سے انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے اسکول اور طبی مراکز غزہ میں پناہ گزینوں کے لیے زندگی کی لکیر ہیں۔

وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں زور دیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کا کردار تبدیل نہیں ہوسکتا، کوئی اور ادارہ فلسطینی پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار انفرا اسٹرکچر اور مہارت کا حامل نہیں ہے اور ایجنسی کی استعداد کار میں کسی بھی قسم کی کمزوری خطے میں سنگین سماجی اور سیاسی اثرات مرتب کرے گی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری یو این آر ڈبلیو اے کے لیے پائیدار اور مناسب فنڈنگ کو یقینی بنائے، یو این آر ڈبلیو اے کی حمایت مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل تک فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینی پناہ گزینوں مشترکہ بیان میں کہا پناہ گزینوں کے میں کہا گیا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا