Jasarat News:
2026-07-24@05:02:36 GMT

بابری مسجد، تاریخ کی درستی یا تاریخ کا زخم؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کے مسلمان راہنما کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن لوک سبھا بیرسٹر اسد الدین اویسی نے حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان چھے دسمبر کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ مہاتما گاندھی کے قتل، اندرگاندھی کے قتل کے ردعمل میں سکھوں کے قتل عام کی طرح بابری مسجد کا انہدام بھی بھارت کا یوم سیاہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی عدالت عظمیٰ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے نریندر مودی کے اس بیان پر بھی افسوس کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ تھا کہ رام مندر کی تعمیر سے پانچ سو سال کے زخم مندمل ہونے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بات رام مندر پر پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ بابری مسجد کی تینتیسویں برسی پر ایودھیا میں سخت حفاظتی انتظاما ت کیے گئے تھے۔ مسلمانوں نے اس دن یوم سیاہ منانے کا اعلان کر رکھا تھا جبکہ ہندو انتہا پسند اس دن کو شوریہ دوس کے نام سے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا تھا۔ تینتیس سال قبل چھے دسمبر کو بھارتی شہر ایودھیا میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے دور میں تعمیر ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو ہندو بلوائیوں نے شہید کردیا تھا۔ بابری مسجد جب شہید کی جارہی تھی اس سے برسوں پہلے ہندووں نے یہ موقف اختیار کرکے کہ یہاں رام کی جنم بھومی اور ایک مندر تھا جسے بابر نے مسمار کرکے مسجد تعمیر کی تھی، بابری مسجد کو متنازع بنا کر تالے لگوا دیے تھے۔ دہائیوں سے بے آباد مسجد بھی ہندو انتہا پسندوں کی آنکھوں میں خار کی مانند کھٹکتی رہی اور ایک روز انتہا پسندوں نے بال ٹھاکرے، کلیان سنگھ، ایل کے اڈوانی کی قیادت میں ڈنڈوں، کدالوں برچھوں اور ترشولوں سے حملہ کر کے بابری مسجد کو مسمار کر کے یہاں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

بھارتی مسلمانوں نے اسے اپنی تاریخ اور ثقافت اور مذہبی شناخت پر حملہ قرار دے کر احتجاج کیا تو ہندو انتہا پسندوں نے پورے بھارت میں مسلمانوں پر جابجا حملے شرو ع کردیے اور مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ ان مسلم کش فسادات میں تین ہزار مسلمان جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر کسی بھی شخص کو گرفتار کیا گیا نہ سزا دی گئی۔ بعد میں جو لوگ اشک شوئی کے طور پر گرفتار کیے گئے تھے عدالتوں نے انہیں بھی ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔ گویا کہ بابری مسجد انسانوں کے بجائے جنات نے گرائی تھی۔ بابری مسجد کی شہادت بھارت کی سیاست میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ بابری مسجد کے ملبے پر ہندو انتہا پسندوں کی سیاست میں دھوم دھڑکے سے شرکت کا آغاز ہو گیا۔ اس واقعے سے پہلے بھارت میں سیاست کی ایک مرکزی کھلاڑی گاندھی اور نہرو سے منسوب اور سیکولر اور سوشلسٹ خیالات کی پرچارک کانگریس تھی جبکہ اس کا مقابلہ کبھی جنتا پارٹی اور جنتا دل جیسے بائیں بازو کے کسی اتحاد کے ساتھ ہوتا تھا۔ کمونسٹ پارٹی آف انڈیا بھی پوری قوت سے کئی ریاستوں اور قومی سیاست کے میدان میں موجود تھی۔ بھارت کے انتہا پسند ہندو یا تو انہی جماعتوں میں شامل تھے یا پھر وہ ان جماعتوں کو ہرانے یا جتوانے کے لیے پریشر گروپ کا کردار ادا کرتے تھے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارتی انتہا پسندوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے ایک محاذ بنا کر قومی سیاست میں اپنا پہلا قدم رکھا۔ رفتہ رفتہ ہندو انتہا پسند بھارت میں سیاسی پیش رفت کرتے چلے گئے یہاں تک وہ فیصلہ سازی پر حاوی ہوگئے۔ مسلمان جو بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اس صورت حال پر پیچ و تاب کھا کر رہ گئے مگر بی جے پی کی سیاست میں آمد اور اْبھار کے بعد ان کے آپشن محدود ہو تے جا رہے تھے۔ مسلمانوں نے بی جے پی مخالف محاذوں کی طرف لڑھکنے کی کوشش کی مگر یہ بے سود رہی کیونکہ بی جے پی کی لہر نے کانگریس اور باقی جماعتوں کو بھی مسلمانوں کے حوالے دے دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا تھا۔

بابری مسجد کی شہادت صرف بھارت کی سیاست کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس نے مجموعی طور برصغیر پاک وہند میں شدت پسندانہ اور انتہا پسندانہ رویوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارت کے مسلمان اپنے مستقبل سے مایوس ہوگئے انہوں نے اسے صدیوں بعد ہونے والے تاریخ کے اْلٹ پھیر کے طور پر جانا۔ گویا کہ مسلمانوں کے لیے صدیوں کی بالادستی کی قیمت چکانے کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا اور دوسری مسلمان تنظیموں سے وابستہ بھارت کے بہت سے مسلمان نوجوان حالات سے مایوس ہو کر زیر زمین جانے کی تیاریاں کرنے لگے تھے۔ بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی اور ردعمل نے پاکستان کو بھی متاثر کیا اور پاکستان میں بھارت مخالف جذبات کو عروج حاصل ہوا۔ کئی تنظیمیں اس سوچ کا پرچار کرنے لگیں کہ بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل ہی نہیں بلکہ صدیوں کا تاریخی اور تہذیبی ورثہ بھی خطرے میں ہے۔ بابری مسجد کے بعد انتہاپسندوں کی طرف سے کئی مساجدکے گرد سرخ دائرہ کھینچنے سے ردعمل کے شعلوں کو ہوا ملتی چلی گئی۔ بابری مسجد کے بعد متھرا کی تاریخی مسجد اسی انجام کی طرف دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔ 2003 میں مجھے دہلی سے آگرہ کے سفر میں شری کرشنا کے نام سے موسوم ایک بڑے مندر کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں ہندوؤں کا کوئی تہوار چل رہا تھا اور نارنجی لباس میں سادھو ترشول اْٹھائے قافلہ در قافلہ متھرا سڑکوں پر رواں دواں تھے۔ شری کرشنا مندر کے احاطے میں ایک کونے میں ایک ویران اور بیابان عمارت اپنے عظیم ماضی اور لاچار حال کی تصویر بنی کھڑی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ مسجد ہے جو بابری مسجد کے بعد انتہاپسندوں کے نشانے پر ہے۔ جہاں کبھی ایک ہی صف میں شاہ و گدا کی جبینیں جھکا کرتی تھیں اب وہاں درازوں کے باہر موٹے تالے اور اندر چڑیوں اور پرندوں کا بسیرا ہے۔

بابری مسجد کی شہادت نے جہاں پورے خطے کے مسلمانوں کو مایوس اور ردعمل کا شکار کیا وہیں اس نے بھارت میں انتہا پسندوں نے اسے اپنا کامیاب سیاسی ٹیک آف جانا۔ اس پہلی کامیابی نے انہیں اعتماد اور حوصلہ عطا کیا اور وہ زیادہ تیز رفتاری سے بھارت کا مجموعی ماحول اور سیاسی کلچر بدلنے کی اپنی راہ پر گامزن ہو تے چلے گئے۔ ایک رائے یہ ہے کہ بابری مسجد کا سانحہ نہ ہوتا تو شاید یہ خطہ ردعمل اور انتقام در انتقام کی موجودہ کیفیت کا شکار نہ ہوتا۔ مسجد کے ملبے پر ہندو انتہا پسندوں نے اپنی دیوہیکل سیاسی عمارت کے لیے ایک بنیاد تو ڈال دی مگر اس کے نتیجے میں ردعمل اور کشمکش کی جو آگ بھڑک اْٹھی آج پاکستان، بنگلا دیش اور بھارت میں مختلف صورتوں میں اس کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بابری مسجد ایک مدت تک پاکستان میں بہت سے سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کی تقاریر کا اہم موضوع بنی رہی۔ بھارت کے مسلمان اس واقعے کو اب تک اپنے سینے کا داغ سجھ کر زندہ اور تازہ رکھے ہوئے ہیں۔ نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ بابری مسجد سے شروع ہونے والے ہندو انتہا پسندوں کا نقطہ عروج ہے۔ اب بھارت کا سیکولرازم جو پہلے ہی برائے نام تھا ماضی کا کہانی بنتا جا رہا ہے۔ بھارت سیکولرازم کے بینر اور نام تلے ایک کٹر ہندو ریاست کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بابری مسجد سے نہرو اور گاندھی کے سیکولر انڈیا کے سردار پٹیل اور بال ٹھاکرے کے ہندو انڈیا میں بدلنے کا جو سفر شروع ہوا تھا تینتیس سال گزرنے کے بعد اس میں تیزی اور شدت آگئی ہے۔ بھارت اس نئی شبیہ اور شناخت کے ساتھ اپنا وجود کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

 

عارف بہار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بابری مسجد کی شہادت ہندو انتہا پسندوں انتہا پسندوں نے بابری مسجد کے سیاست میں کے مسلمان بھارت میں بھارت کے انہوں نے کی سیاست میں ایک کے بعد

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا