25 سالہ ٹک ٹاکر کی اچانک موت، آخری فون کال پر کیا بات کی تھی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
میامی کے نوجوان ٹک ٹاکر بین بیڈر 23 اکتوبر 2025 کو صرف 25 سال کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔ ان کی گرل فرینڈ ریم نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ بین بیڈر اپنی پرسکون آواز اور مہربان رویے کی وجہ سے مداحوں میں خاصے محبوب تھے اور وہ زندگی کے بارے میں مثبت پیغامات اپنے فالوورز کے ساتھ شیئر کرتے تھے۔
ریم نے بتایا کہ بین کے ساتھ ان کا رشتہ احترام اور محبت پر مبنی تھا اور وہ اسی شام کھانے پر ملاقات کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ریم کے مطابق بین نے چند گھنٹوں قبل فیس ٹائم پر ان سے بات کی تھی اور بالکل معمول کے مطابق خوش اور پُرجوش لگ رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بین نے انہیں وقت پر کھانے اور آرام کرنے کے بارے میں یاد دہانی کروائی۔ کوئی درد یا صحت کا مسئلہ ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام چیٹ نے سازش بے نقاب کردی، قاتل بیوی عاشق سمیت گرفتار
انہوں نے مداحوں سے درخواست کی کہ بین کو ان کی مہربانی اور نیک دل ہونے کی وجہ سے یاد رکھا جائے اور غلط خبریں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
ان کی آخری ٹک ٹاک ویڈیو، جس میں وہ کبھی ہار نہ ماننے اور مہربان رہنے کے بارے میں بات کر رہے تھے، اب مداحوں کی دعاؤں اور جذباتی تبصروں سے بھری ہوئی ہے۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ بین کے الفاظ نے مشکل وقت میں ان کی مدد کی۔ انہوں نے بین کو ’ٹوٹے دل والے لوگوں کے لیے روشنی‘ کہا۔
اب تک بین بیڈر کی موت کی اصل وجہ سامنے نہیں آئی اور کسی سرکاری میڈیکل رپورٹ کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، تاہم ریم اور بین کے اہل خانہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ فی الحال صرف اتنا معلوم ہے کہ ان کا انتقال اچانک اور غیر متوقع تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاکر ٹک ٹاکر موت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر ٹک ٹاکر موت ٹک ٹاکر کہ بین
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک