عاطف اسلم کا ڈھاکا میں کنسرٹ اچانک منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستانی معروف گلوکارعاطف اسلم کا بنگلہ دیش میں 13 دسمبر کو منعقد ہونے والا کنسرٹ اچانک منسوخ ہو گیا۔عاطف اسلم کے شائقین جو کنسرٹ کے لیے بے حد پُرجوش تھے، تقریب کی اچانک منسوخی پر شدید مایوسی اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں، ٹکٹوں کی فروخت مکمل ہونے کے باوجود پروگرام کو منسوخ کر دیا گیا جس نے شائقین کی ناراضی میں مزید اضافہ کر دیا۔عاطف اسلم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں تصدیق کی اور کہا" ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ہم 13 دسمبر 2025 کو ڈھاکا میں ہونے والے کنسرٹ میں پرفارم نہیں کر رہے"۔گلوکار کے مطابق کنسرٹ کے منتظمین اور مینجمنٹ مقامی حکام سے ضروری اجازت نامے، سیکیورٹی کلیئرنس اور لاجسٹکس کے انتظامات مکمل کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث ان کی شرکت ممکن نہ ہو سکی۔کنسرٹ کی منسوخی کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شائقین کا شدید ردِعمل سامنے آیا، متعدد افراد نے سوال اٹھایا کہ جب ضروری حکومتی اجازت نامے حاصل نہیں کیے گئے تھے تو پھر ٹکٹوں کی فروخت کیوں کی گئی؟شائقین اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ خریدے گئے ٹکٹس کی ریفنڈ پالیسی کیا ہوگی اور رقم کس طریقے سے واپس کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔