بلغاریہ میں مہنگائی اور کرپشن کیخلاف عوام سڑکوں پر‘ وزیراعظم مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-25
صوفیہ(مانیٹر نگ ڈ یسک )بلغاریہ کے وزیراعظم روزن ژیلیازکوف نے اپنے سیاسی اور حکومتی عہدوں سے استعفا دے دیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بلغاریہ کے وزیراعظم نے ملک بھر میں کئی ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے باعث استعفا دیا۔ عوامی احتجاج اور مظاہرے اس زور پکڑنے لگے تھے جب حکومت نے 2026ء کے بجٹ کی تجاویز پیش کی تھیں جس میں ٹیکس اور سوشل سیکورٹی میں ہوشربا اضافہ
کیا گیا تھا۔عوام اور اپوزیشن جماعتوں کا بھی مطالبہ تھا کہ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے بجائے کرپشن کم کرے۔ جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔حکومت مخالفین کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے بوجھ میں اضافہ کرکے کرپشن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس کے بعد ملک بھر میں حکومت کے خلاف شدید احتجاج اور پْرتشدد مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہاں تک کہ حکومت کو بجٹ تجاویز واپس لینا پڑیں۔حکومت کے احتجاجات صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ درجنوں شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔جس کے بعد سے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے دبائو میں اضافہ ہوگیا تھا تاہم اس سے قبل ہی مستعفی ہونے کا اعلان ٹیلی وژن خطاب میں کیا۔بلغاریہ میں گزشتہ 4 برس کے دوران 7 بار الیکشن ہوچکے ہیں اور گزشتہ چند برس میں متعدد غیر مستحکم حکومتیں بنتی رہیں اور تحلیل ہوتی رہی ہیں۔جس کے بعد سے حکومت پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے تاہم اس بار بھی امکان ہے کہ جلد نئے انتخابات ہوں گے جب تک کوئی نئی قائم حکومت تشکیل نہیں پاتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔