سبق یاد نہ ہونے پر استاد کا 10 سالہ بچے پر بہیمانہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
لاہور کے علاقے ملت پارک میں سبق یاد نہ ہونے پر استاد نے طالب علم کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملت پارک کے علاقے میں استاد نے سبق یاد نہ ہونے پر 10 سالہ بچے آیان شہروز کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
بچے نے گھر جاکر اپنے ساتھ ہونے والی مار پیٹ سے آگاہ کیا تو دادی مقدمہ درج کروانے تھانے پہنچی اور پولیس نے دادی کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرلی۔
ایف آئی آر کے مطابق سبق یاد نہ ہونے پر استاد نے آیان کو پلاسٹک کے پائپ سے بری طرح سے مارا جس کی وجہ سے اُس کی پیٹ اور جسم کے دیگر حصوں پر نشانات پڑ گئے۔
مقدمہ اندراج کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعہ کا نوٹس لیا اور ملزم کی گرفتاری کی ہدایت کی جس پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
فیصل کامران نے کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق بچے اور خواتین ریڈ لائن ہیں، بچوں، خواتین کے خلاف جرائم پر زیروٹالرنس کی پالیسی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سبق یاد نہ ہونے پر
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔