آج کل ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا استعمال بڑھ گیا ہے اور لوگ ہر چھوٹی سے چھوٹی معلومات کے لیے اے آئی کے ٹولز کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت کال سینٹرز کا خاتمہ کر دے گی؟

لیکن گوگل کی پیرنٹ کمپنی ایل فابیٹ نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو اے آئی ٹولز کی بتائی ہر بات پر اندھا یقین نہیں کرنا چاہیے۔

بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سی ای او سندر پچائی نے بتایا کہ اے آئی ماڈلز ہمیشہ درست نہیں ہوتے اور غلطیاں کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو اے آئی ٹولز کو دیگر معلوماتی ذرائع کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے اور اس بات پر زور دیا کہ معلومات کے مختلف ذرائع رکھنا ضروری ہے نہ کہ صرف  اے آئی پر انحصار کیا جائے۔

مزید پڑھیے: ذہنی مسائل میں مصنوعی ذہانت کا کردار، ماہرین نے خبردار کردیا

سندر پچائی نے کہا کہ اے آئی ٹولز تخلیقی کاموں کے لیے مفید ہیں لیکن لوگوں کو جو کچھ یہ پیدا کرتے ہیں اس پر مکمل اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے لوگ گوگل سرچ کا بھی استعمال کرتے ہیں اور ہمارے پاس دیگر مصنوعات بھی ہیں جو زیادہ درست معلومات فراہم کرنے پر مبنی ہیں۔

سندر پچائی نے زور دیا کہ صارفین کو اے آئی کی حدود کو سمجھنا چاہیے اور اسے سمجھداری سے استعمال کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت آپ کے بجلی کے بل بڑھا رہی ہے؟

سنہ2025  تک دنیا بھر میں تقریباً 90 کروڑ لوگ فعال طور پر اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں جو کہ عالمی آبادی کا تقریباً 11 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت نے مذہبی معاملات کا بھی رخ کرلیا، مذاہب کے ماننے والے کیا کہتے ہیں؟

ان میں چیٹ جی پی ٹی سب سے زیادہ مقبول اے آئی ٹول ہے جسے ہر ہفتے تقریباً 70 کروڑ افراد استعمال کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی اے آئی کےتاریک پہلو سندر پچائی گوگل مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی سندر پچائی گوگل مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت اے ا ئی ٹولز کرنا چاہیے سندر پچائی استعمال کر

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ