کالعدم ٹی ایل پی کے ٹکٹ ہولڈرز پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں عوام کا بھاری مینڈیٹ حاصل کرے گی اور لاہور میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گی۔ شمولیت اختیار کرنیوالے حاجی نواز گڈو نے کہا کہ ہم صاف، شفاف اور عوام دوست سیاست چاہتے ہیں، اور پیپلز پارٹی ہمیں یہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ ہم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سابق ٹکٹ ہولڈرز نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات کی۔ حاجی نواز گڈو سمیت دیگر ٹکٹ ہولڈرز نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ گورنر ہاوس میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما عمران علی کھوکھر کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ جس میں کالعدم مذہبی جماعت کے سابق ٹکٹ ہولڈر حاجی نواز گڈو، ملک شہباز راجپوت، ملک ناصر راجپوت اور ملک ارشاد راجپوت سمیت دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر حاجی نواز گڈو، ملک شہباز راجپوت، ملک ناصر راجپوت اور ملک ارشاد راجپوت نے اپنے ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلز پارٹی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنیوالوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پسے ہوئے طبقات اور غریب عوام کی پارٹی ہے، جو ہمیشہ اپنے کارکنوں کو عزت دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں شامل ہونیوالے رہنماؤں کا ہر محاذ پر دفاع کیا جائے گا، انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی سے کیا تھا، اختتام بھی یہی سے کروں گا۔ سردار سلیم حیدر خان نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے خود کو ایک حقیقی عوامی رہنما کے طور پر منوایا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا پیغام گلی گلی، محلے محلے پہنچانا ہے کیونکہ عوام بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا وزیرِاعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں عوام کا بھاری مینڈیٹ حاصل کرے گی اور لاہور میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گی۔ شمولیت اختیار کرنیوالے حاجی نواز گڈو نے کہا کہ ہم صاف، شفاف اور عوام دوست سیاست چاہتے ہیں، اور پیپلز پارٹی ہمیں یہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ ہم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری سردار سلیم حیدر کہ پیپلز پارٹی گورنر پنجاب حاصل کرے گی پارٹی میں نے کہا کہ کی قیادت
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس