بھارت میں گرل فرینڈ نے جنسی ہراسانی پر سابق دوست کی زبان چبا ڈالی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
بھارت کے شہر کانپور میں تنہائی میں زبردستی کرنے کی کوشش پر گرل فرینڈ نے محبت کے دعویدار شادی شدہ مرد کی زبان کاٹ لی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اپنی نوعیت کا یہ حیران کن واقعہ ریاست اتر پردیش کے علاقے کانپور ضلع میں پیش آیا جس میں 35 سالہ شادی شدہ شخص نے خود اپنی شامت کو دعوت دی تھی۔
شادی شدہ شخص کا نام چمپی تھا اور وہ اپنی گرل فرینڈ کو بھلا پھسلا کو تالاب کے کنارے لایا تھا۔ جس کی شادی والدین نے طے کردی تھی اور اب وہ ملنا نہیں چاہتی تھی۔
پولیس کے بقول چمپی نے اپنی گرل فرینڈ پر آخری ملاقات کے لیے زور ڈالا اور منت سماجت کرکے سنسان علاقے میں لے گیا۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کو بتایا کہ چیخنے چلانے کی آوازیں سن کر تالاب کے قریب پہنچے تو چمپی کے منہ سے خون بہہ رہا تھا اور لڑکی نیم عریاں کھڑی تھی۔
پولیس کو دیئے گئے بیان میں لڑکی نے بتایا کہ میری شادی طے کردی گئی تھی اور میں اب اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی۔
لڑکی جس کا نام صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے،پولیس کو مزید بتایا کہ اس شخص نے میرے منع کرنے کے باجود زبردستی کرنا چاہا۔
پولیس کے بقول لڑکی نے اُس شخص کے شکنجے سے بچنے کے لیے اسی زبان کو اپنے دانتوں سے کاٹ لیا اور خود کو آزاد کرایا۔
انویسٹی گیشن آفیسر نے میڈیا کو بتایا کہ لڑکی کی شکایت اور علاقہ مکینوں کی گواہی پر چمپی کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بتایا کہ
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔