کیڈٹ کالج وانا پر حملہ ناکام، آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر نے تفصیلات بیان کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
کیڈٹ کالج وانا پر حملہ ناکام بنانے کے حوالے سے آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر نے تفصیلات بیان کر دیں۔
آپریشن کمانڈر کا کہنا ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے دھماکا کیا، دیگر خوارج نے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی، خوارج نے پہلے زیر تعلیم بچوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔
کرنل محمد طاہر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے خوارج کا حملہ ناکام بنا دیا، ہم نے دہشت گردوں کو مخصوص بلاک میں محدود کر دیا، رات 10سے ساڑھے 10 بجے کے قریب خوارج کے خلاف بھرپور آپریشن کیا۔ آپریشن میں تمام خوارج ہلاک کردیے گئے۔
اس حوالے سے زیرِ تعلیم کیڈٹ کا کہنا ہے کہ ہم عصر کے وقت ڈرل کمپٹیشن کی تیاری کر رہے تھے کہ خود کش دھماکا ہوا، جب خودکش دھماکا ہوا تو سارے کیڈٹس ڈرل کر رہے تھے۔
کیڈٹ کا کہنا ہے کہ اساتذہ نے کہا کہ آپ پُرسکون ہو جائیں اب پاک فوج آگئی ہے، ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ حملہ تعلیم کے دشمنوں نے کیا ہے، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیں بحفاظت کالج سے محفوظ مقام پر منتقل کیا، تعلیم کے دشمن کچھ بھی کر لیں، ہمیں تعلیم سے نہیں روک سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کیڈٹ کا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔