جنگ و جیو گروپ نے ملک کی میڈیا انڈسٹری میں پہلی بار اپنے اسٹاف کی ذہنی صحت کے لیے ایک منظم اور باضابطہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اہم قدم اٹھایا ہے۔ 

یہ پروگرام”مل کر آؤبات کریں“ کے سلوگن کے تحت ہوگا جس کا مقصد کام کی جگہوں پر ذہنی دباؤ کو سمجھنا اور اس میں کمی لانا ہے۔ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے اور اس میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان طبقہ ہے۔

جنگ و جیو گروپ نے ملک کی میڈیا انڈسٹری میں پہلی بار اپنے اسٹاف کی ذہنی صحت کے لیے منظم اور باضابطہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے ذہنی صحت اور نیورو سائنس سروسز فراہم کرنے والے ادارے ”SYNAPSE Pakistan“ کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ میاں اور جیونیوز کے منیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔ 

اس سمجھوتے کا مقصد کام کی جگہوں پر ذہنی دباؤ کو سمجھنا اور اس میں کمی لانا اور ورکرز کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے مسائل اور ذہنی دباؤ کے بارے میں کھل کر بات کرسکیں۔

اس موقع پر جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ”SYNAPSE Pakistan“ کی سربراہ ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت مائنڈ ویل نیس، کونسلنگ اور تھراپی کو ایک منظم طریقے سے ادارے کے نظام کا حصہ بنایا جائے گا، اس اقدام کے ساتھ جیو پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کا پہلا ادارہ بن گیا ہے جس نے اپنے ورکرز کی ذہنی صحت کو باضابطہ طور پر نا صرف اولین ترجیح بنایا بلکہ عملی قدم بھی اٹھایا ہے۔

جنگ اور جیو گروپ کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے ادارے کے تمام ملازمین کی ذہنی صحت اور دباؤ کے خاتمے کیلئے مدد، رہنمائی اور سپورٹ کے ایسے دروازے کھولے جائیں گے جو میڈیا انڈسٹری کیلئے ایک نئی مثال بنیں گے۔ 

جیو نیوز کے ایم ڈی اظہر عباس نے بھی تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 یاد رہے کہ ایم او یو پر دستخط کرنے کی تقریب آئی بی اے سٹی کیمپس کراچی میں منعقد کی گئی جس میں جیو سے وابستہ ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، پروگرام پر کھل کر گفتگو کی اور اسے سراہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: میڈیا انڈسٹری کی ذہنی صحت جیو گروپ اور اس

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت