سعودی عرب امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کاری کرے گا جو 10 کھرب ڈالر تک جاسکتی ہے، محمد بن سلمان نے کہا کہ سرمایہ کاری کو 10 کھرب ڈالر تک بڑھائیں گے۔
وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ولی عہد کی آمد پر مجھے بے حد خوشی ہے، محمد بن سلمان نے امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، جو بڑھ کر 10 کھرب ڈالر تک جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے انہیں ”ان پر کام کرنا ہوگا“۔
انہوں نے کہا کہ سعودی کے ساتھ سرمایہ کاری کو مزید بڑھائیں گے، سعودی عرب سے سرمایہ کاری کا مطلب وال اسٹریٹ میں پیسہ ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ سرمایہ کاری مختلف فیکٹریوں، وال اسٹریٹ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے شعبوں میں کی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نااہل تھی،4سال میں بھی اتنی سرمایہ کاری نہیں آئی، بائیڈن کے دور میں امریکی تاریخ کی بدترین مہنگائی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ میرے آتے ہی ایک سال میں 21ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، بائیڈن نے پیٹرولیم اور گیس ذخائر کو بھی تباہ کردیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایک نئی شروعات کررہا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، ہم پیٹرولیم اور گیس ذخائر کو دوبارہ بنارہے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتیں کم کی ہیں، اور امریکا میں لوگوں کیلئے انرجی کی قیمت میں کمی کی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب ”ہر مسئلے پر ہمیشہ ایک ہی جانب رہے ہیں“۔ٹرمپ نے اس سال کے اوائل میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کے حملے میں کردار ادا کرنے پر سعودی عرب کا کریڈٹ بھی دیا، ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے امریکا کو یہ کارروائی کرنے کی اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کردیا ہے، پہلے کسی صدر نے ایسا نہیں کیا، ایران پر حملے کی تیاری 22 سال سے جاری تھی لیکن کسی نے حملہ نہیں کیا، ایران پر حملے تیاری کی جاتی تھی لیکن پھر اجازت نہیں ملتی تھی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آج ہماری تاریخ کا اہم موقع ہے، ہم مستقبل پر کام کررہے ہیں اور سرمایہ کاری کیلئے بنیادوں کو مضبوط کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے دنیامیں امن قائم کرنے کیلئے اقدامات کو سراہتے ہیں، وہ معاشی ترقی کیلئے بھی اچھے اقدامات کررہے ہیں۔
سعودی ولی عہد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت،ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں گے، امریکا میں 600 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، اور سرمایہ کاری کو ایک ٹریلین( 10 کھرب ) ڈالر تک بڑھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔