ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے کاروباری اعتماد میں قابلِ ذکر اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کی جامع حکمتِ عملی کے باعث پاکستان میں کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری کے دائرۂ کار میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں 14 ہزار 802 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن مکمل ہوئی جس کے بعد پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 918 تک پہنچ گئی۔
آئی ٹی اور ای کامرس کا شعبہ 670 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست ہے، رجسٹرڈ کمپنیوں میں 59 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں شامل ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں مثبت پیش رفت کے باعث 30 سے زائد ممالک سے 332 کمپنیوں کو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل ہوا جبکہ ڈیجیٹل رسائی میں اضافے کے باعث 250 سے زیادہ شہروں اور 30 فیصد قصبوں میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوا۔
ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے کاروبار کے آغاز کا طریقۂ کار مزید تیز، آسان اور شفاف بنا دیا۔ ایس آئی ایف سی کی سرپرستی سے پاکستان کاروباری توسیع، سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی شراکت داری کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔