باجوڑ سے افغان خودکش بمبار اور سہولت کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
محکمہ انسداد دہشتگری خیبرپختونخوا نے ایلیٹ فورس اور مقامی پولیس کے ساتھ کامیاب کارروائی کرتے ہوئے افغان خودکش حملہ آور کو سہولت کار سمیت گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی سوات، ایلیٹ فورس کے جوان اور باجوڑ پولیس نے علاقے میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران دو مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع پر خشک نالے کے قریب کارروائی کی۔
پولیس کے مطابق دو مشکوک افراد کی قریبی نالے میں موجودگی کی اطلاع ملی جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے خشک نالے سے 2 مشکوک افراد کو گھیرے میں لیا جنہوں نے پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی روپوش ہونے کی کوشش کی تاہم بھرپور حکمت عملی سے دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش پر معلوم ہوا کہ گرفتار ملزمان دہشتگردی کی بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتے تھے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامے آئی کہ افغانستان کے صوبے بلخ سے تعلق رکھنے والا قیس خودکش حملے کی غرض سے پاکستان آیا اور وہ اپنے سہولت کار دہشت گرد رفیع اللہ کے ساتھ موجود تھا۔
پولیس کے مطابق دونوں دہشتگردوں کے قبضہ سے 3 عدد دستی بم جبکہ خودکش بمبار کے پاس سے نیلے تھیلے میں لپٹی دیسی آئی ای ڈی، فیوز اور بارود برآمد ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک