ایک ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزی فلم بالکل ایک کامیاب میزائل آپریشن کی طرح تھی، جس طرح اسرائیل کسی فوجی حملے پر ردعمل دیتا ہے، بالکل ویسی ہی حرکت اس میڈیا آپریشن پر بھی دکھائی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم کے عبرانی سروس کے سربراہ سهیل کثیری‌ نژاد نے کہا ہے کہ اسرائیلی معاشرے کے لیے ایران کی جانب سے عبرانی زبان میں دستاویزی فلم تیار کرنا ایک غیر متوقع اقدام تھا، اور اس سے ثابت ہوا کہ اسرائیلی عوام متبادل بیانیہ سننے کے شدید متمنی ہیں۔ عبرانی زبان میں تیار ہونے والے پہلی دستاویزی فلم "بازان پر میزائل" کے فارسی نسخے کی نمائش میں کثیری‌نژاد نے کہا کہ گزشتہ تقریباً ایک سال میں، خصوصاً اس دستاویزی فلم کی اشاعت کے بعد، ہمیں بالکل واضح طور پر دیکھنے کو ملا کہ اسرائیلی معاشرہ ‘متبادل روایت’ کا پیاسا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں بظاہر میڈیا آزادی موجود ہے، وہاں ایک عام ناظر کے پاس تقریباً 230 ٹی وی چینلز دستیاب ہیں اور ظاہری طور پر اسے مواد کے انتخاب کی مکمل آزادی دکھائی دیتی ہے، لیکن پچھلے ایک سال میں ہماری معمولی سی میڈیا سرگرمی خصوصاً یہ دستاویزی فلم جس ردعمل کا سبب بنی، اس نے دکھا دیا کہ اسرائیلی عوام اپنے سرکاری اور صہیونی میڈیا اداروں سے ہٹ کر ایک مختلف بیانیہ سننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، ثابت ہوا کہ اگر کوئی فوجی کارروائی میڈیا کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ زیادہ سے زیادہ اثر نہیں ڈال سکتی، بہترین فوجی آپریشن بھی اگر میڈیا آپریشن کے بغیر ہو تو اسے عوامی سطح پر ناکام دکھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، ایک کمزور آپریشن کو میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے مکمل فتح کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، یہی بات میڈیا وار کی اصل اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے ایک ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کمانڈر کے مطابق یہ دستاویزی فلم بالکل ایک کامیاب میزائل آپریشن کی طرح تھی، جس طرح اسرائیل کسی فوجی حملے پر ردعمل دیتا ہے، بالکل ویسی ہی حرکت اس میڈیا آپریشن پر بھی دکھائی گئی۔ کمانڈر کے مطابق اس دستاویزی فلم میں چند خصوصیات تھیں جو اسے ایک کامیاب فوجی کارروائی سے مشابہ بناتی ہیں:
1۔ اچانک پن۔ اسرائیل اس اقدام کی توقع نہیں کر رہا تھا، اور ان کے میڈیا کا جارحانہ ردعمل اس بات کی گواہی ہے۔
2۔ محاصرہ شکنی۔ ایران جس میڈیا محاصرے میں برسوں سے پھنسا ہوا تھا، اس دستاویزی فلم نے اسے توڑ ڈالا اور اسرائیل کے خلاف ایک فعال میڈیا یلغار شروع کر دی۔
3۔ اسٹریٹجک اثر۔ یہ دستاویزی فلم روزمرّہ خبروں سے آگے بڑھ کر اسٹریٹجک سطح پر دکھاتی ہے کہ ایران کے فوجی حملے دشمن کی روک تھام میں کتنے مؤثر رہے۔
4۔ ابتکارِ عمل۔ اس کارروائی نے میڈیا میدان میں ابتکار اور پیش قدمی ایران کے پلڑے میں ڈال دی۔

کثیری‌ نژاد نے کہا کہ یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے محورِ مقاومت کی عبرانی زبان میں تیار کردہ پہلی دستاویزی فلم ہے۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل نے آج تک فارسی بولنے والوں کے لیے ایک بھی ایسی دستاویزی فلم نہیں بنائی، اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا وار کے میدان میں ابتکارِ عمل اب ایران کے ہاتھ میں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ اسرائیلی کہ اسرائیل نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان