12 روزہ جنگ پر عبرانی ڈاکومنٹری پر ردعمل، اسرائیلی ناظرین “متبادل بیانیے” کے پیاسے نکلے
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
ایک ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزی فلم بالکل ایک کامیاب میزائل آپریشن کی طرح تھی، جس طرح اسرائیل کسی فوجی حملے پر ردعمل دیتا ہے، بالکل ویسی ہی حرکت اس میڈیا آپریشن پر بھی دکھائی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی تسنیم کے عبرانی سروس کے سربراہ سهیل کثیری نژاد نے کہا ہے کہ اسرائیلی معاشرے کے لیے ایران کی جانب سے عبرانی زبان میں دستاویزی فلم تیار کرنا ایک غیر متوقع اقدام تھا، اور اس سے ثابت ہوا کہ اسرائیلی عوام متبادل بیانیہ سننے کے شدید متمنی ہیں۔ عبرانی زبان میں تیار ہونے والے پہلی دستاویزی فلم "بازان پر میزائل" کے فارسی نسخے کی نمائش میں کثیرینژاد نے کہا کہ گزشتہ تقریباً ایک سال میں، خصوصاً اس دستاویزی فلم کی اشاعت کے بعد، ہمیں بالکل واضح طور پر دیکھنے کو ملا کہ اسرائیلی معاشرہ ‘متبادل روایت’ کا پیاسا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں بظاہر میڈیا آزادی موجود ہے، وہاں ایک عام ناظر کے پاس تقریباً 230 ٹی وی چینلز دستیاب ہیں اور ظاہری طور پر اسے مواد کے انتخاب کی مکمل آزادی دکھائی دیتی ہے، لیکن پچھلے ایک سال میں ہماری معمولی سی میڈیا سرگرمی خصوصاً یہ دستاویزی فلم جس ردعمل کا سبب بنی، اس نے دکھا دیا کہ اسرائیلی عوام اپنے سرکاری اور صہیونی میڈیا اداروں سے ہٹ کر ایک مختلف بیانیہ سننے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، ثابت ہوا کہ اگر کوئی فوجی کارروائی میڈیا کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ زیادہ سے زیادہ اثر نہیں ڈال سکتی، بہترین فوجی آپریشن بھی اگر میڈیا آپریشن کے بغیر ہو تو اسے عوامی سطح پر ناکام دکھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، ایک کمزور آپریشن کو میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے مکمل فتح کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، یہی بات میڈیا وار کی اصل اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے ایک ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کمانڈر کے مطابق یہ دستاویزی فلم بالکل ایک کامیاب میزائل آپریشن کی طرح تھی، جس طرح اسرائیل کسی فوجی حملے پر ردعمل دیتا ہے، بالکل ویسی ہی حرکت اس میڈیا آپریشن پر بھی دکھائی گئی۔ کمانڈر کے مطابق اس دستاویزی فلم میں چند خصوصیات تھیں جو اسے ایک کامیاب فوجی کارروائی سے مشابہ بناتی ہیں:
1۔ اچانک پن۔ اسرائیل اس اقدام کی توقع نہیں کر رہا تھا، اور ان کے میڈیا کا جارحانہ ردعمل اس بات کی گواہی ہے۔
2۔ محاصرہ شکنی۔ ایران جس میڈیا محاصرے میں برسوں سے پھنسا ہوا تھا، اس دستاویزی فلم نے اسے توڑ ڈالا اور اسرائیل کے خلاف ایک فعال میڈیا یلغار شروع کر دی۔
3۔ اسٹریٹجک اثر۔ یہ دستاویزی فلم روزمرّہ خبروں سے آگے بڑھ کر اسٹریٹجک سطح پر دکھاتی ہے کہ ایران کے فوجی حملے دشمن کی روک تھام میں کتنے مؤثر رہے۔
4۔ ابتکارِ عمل۔ اس کارروائی نے میڈیا میدان میں ابتکار اور پیش قدمی ایران کے پلڑے میں ڈال دی۔
کثیری نژاد نے کہا کہ یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے محورِ مقاومت کی عبرانی زبان میں تیار کردہ پہلی دستاویزی فلم ہے۔ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل نے آج تک فارسی بولنے والوں کے لیے ایک بھی ایسی دستاویزی فلم نہیں بنائی، اس کا مطلب یہ ہے کہ میڈیا وار کے میدان میں ابتکارِ عمل اب ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ اسرائیلی کہ اسرائیل نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔