’قوم کے معماروں پر کوئی آنچ نہ آئے‘، فیلڈ مارشل نے کیڈٹ کالج وانا آپریشن پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
’قوم کے معماروں پر کوئی آنچ نہ آئے‘، فیلڈ مارشل نے کیڈٹ کالج وانا آپریشن پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 November, 2025 سب نیوز
کیڈٹ کالج وانا کے اساتذہ اور کیڈٹس کے حوصلے بلند ہیں جب کہ دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کا عزم ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لمحہ بہ لمحہ آپریشن پر نظر رکھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہدایت دی کہ قوم کے یہ معمار ہمارا سرمایہ ہیں، ہر گز کوئی آنچ نہ آنے پائے۔
کیڈٹس نے کہا کہ پاک فوج کے جوان 24 گھنٹے سے زیادہ کیڈٹس اور خوارج کے درمیان ڈھال بن کر کھڑے رہے، شہادتیں دے کر بچوں کو بچایا۔
افغان خوارج کا کیڈٹ کالج وانا پر حملہ ناکام بنانے والے آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر کا کہنا تھا کہ؛ 10نومبر کو 5 افغانی خوارج نے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کر دیا۔
آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر نے کہا کہ خوارج نے وانا کیڈٹ کالج کو، جو کہ پاک فوج کی طرف سے ساؤتھ وزیرستان کی عوام کے لئے قیمتی تحفہ ہے ، نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ کیا جبکہ دیگر خورج نے گیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر نے کہا کہ خوارج نے پہلے زیر تعلیم بچوں کو یرغمال بنا نے کی کوشش کی، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے خوارج کے اس حملے اور مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا، ہم نے دہشتگردوں کو مخصوص بلاک میں محدود کر کے طالب علموں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔
خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے وانا میں کیڈیٹ کالج میں داخل ہونے والے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ تمام 650 طلبا و اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا تھا۔
آپریشن کمانڈر کرنل محمد طاہر کے مطابق رات 10سے ساڑھے 10 بجے کے قریب خوارج کے خلاف بھرپور آپریشن کے بعد تمام خوارج کو جہنم واصل کر دیاگیا۔
زیر تعلیم کیڈٹ نے کہا کہ ہم عصر کے وقت ڈرل کمپٹیشن کی تیاری کر رہے تھے کہ خود کش دھماکہ ہوا، ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ حملہ تعلیم کے دشمنوں نے کیا ہے ، جو ہمیں تعلیم سے روکنا چاہتے ہیں، پاک فوج کے جوانوں نے ہمیں بحفاظت کالج سے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
زیر تعلیم کیڈٹ کے مطابق تعلیم کے دشمن کچھ بھی کر لیں، ہمیں تعلیم سے نہیں روک سکتے، جب خودکش دھماکہ ہوا تو سارے کیڈٹس ڈرل کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ نے کہا کہ آپ پر سکون ہو جائیں اب پاک فوج آگئی ہے، الحمدالللہ، بر وقت کاروائی کی وجہ سے ایک خوفناک دہشتگردی کا ارادہ خاک میں مل گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشیخ محمد بن حماد بن تہنون آل نہیان ابوظہبی ٹی10 لیگ کے سرپرستِ اعلیٰ مقرر وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے، 27 ویں ترمیم میں مزید ترامیم شامل کرنے کا فیصلہ امن جرگہ؛ یہاں بم پھٹتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کس پارٹی سے ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ستائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس محسن اختر کیانی کے دلچسپ ریمارکس پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا اعلان امریکا نے غزہ استحکام فورس کے قیام کیلئے نئی ترمیم شدہ قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کردی محمد علی مرزا کیس: اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے معطل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کیڈٹ کالج وانا فیلڈ مارشل
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔