سندھ حکومت ای چالان کے نام پر بھتا وصول کرنے لگی،منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہاہے کہ پیپلز پارٹی نااہلی ،بدانتظامی اور کرپشن کا بدترین امتزاج ہے ، سندھ حکومت شہر کا انفرااسٹرکچر درست کرنے کے بجائے اہل کراچی سے ای چالان کے نام پر بھتا وصول کرنے لگی ہے ، حکومت شہریوںکو معیاری ٹرانسپورٹ تو دیتی نہیں لیکن چالان دبئی کے طرز پر لگادیے گئے ہیں، پچھلے 17 برس میں کراچی میں صرف 300 بسیں لائی گئی ،40 لاکھ سے زاید لوگ موٹر سائیکل پرسفر کرنے پر مجبور ہیں، کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے ، ملک کی معیشت کا 60 فیصد سے زاید حصہ یہ شہر دیتا ہے لیکن یہاں پر عوام کو بنیادی سہولتیں حاصل نہیں ، جماعت اسلامی نے ای چالان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے ، ایک ہی ملک میں 2نظام چل رہے ہیں ،لاہور میں جو جرمانہ 200 روپے ہے وہی جرمانہ کراچی میں 5 ہزار کا ہے ، یہ ظلم وزیادتی ہرگز قبول نہیں کی جائیگی، امید ہے کہ عدالت عالیہ شہریوں کے حق میں فیصلہ دے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے مین کینٹ بازار ڈرگ روڈ اور سعود آباد ملیر میں منعقدہ ممبرز کنونشن سے علیحدہ علیحدہ خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے امیر ضلع ائر پورٹ محمد اشرف ، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق و دیگر ذمے داران نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں جماعت اسلامی کی قائم کردہ عوامی کمیٹیوں کے ممبران ، جماعت اسلامی کے کارکنوں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔منعم ظفر نے مزید کہا کہ دین ایک نظام کا نام ہے ، اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ، جو معیشت ،معاشرت ، لین دین ، سیاست ،اخلاقیات سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے ، 21،22،23نومبر کو مینار پاکستان کے مقام پر ایک عظیم الشان اجتماع عام منعقد ہونے جارہا ہے ، ہم اہل کراچی سے اپیل کرتے ہیں کہ اس اجتماع عام میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھرپور شرکت کریں ، اجتماع عام نظام ظلم کے خاتمے کا پیغام ثابت ہوگا ، ظلم کے نظام کا خاتمہ کرے گا، انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں ماس ٹرانزٹ ،مونو ریل چلتی ہیں لیکن کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہرکے شہری چنگ چی جیسی سواری پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، کراچی میں کوئی منصوبہ مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا، کریم آباد انڈر پاس 2سال میں مکمل ہونا تھا لیکن3 سال ہوچکے ہیں منصوبہ نا مکمل ہے ، ریڈ لائن منصوبہ مکمل ہونے کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ، جس کے باعث وہاں کے شہری شدید جسمانی و ذہنی اذیت سے دوچار ہیں، اس سال 5مرتبہ ناتھا خان کا برج ٹوٹ چکاہے ، جماعت اسلامی کے 9ٹائونز میں محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود ترقی اور خدمت کا سفر جاری ہے ، ہمارے منتخب نمائندے دن رات اپنے اپنے علاقوں کی تعمیر وترقی میں مصروف ہیں،صوبائی حکومت کے کام بھی جماعت اسلامی کررہی ہے ، سڑک بنانے سے پہلے سیوریج اور پانی کا کام کے ایم سی کی ذمے داری ہے لیکن یہ کام بھی ہم کررہے ہیں ِ ،تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے ، ہماری عوامی کمیٹیاں مستقل لوگوں سے رابطے میں ہیں ، ان کے مسائل حل کررہی ہیں، گزشتہ دنوں ہم نے نیو کراچی کے اندر 600گلیوں کی تعمیر کے منصوبے کاآغاز کیا ہے ، ہم نے حیدری مارکیٹ کو ماڈ ل بناکر ڈسٹرکٹ سینٹرل کو زبردست تحفہ دیا ہے ، ہم اہل کراچی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ، ہم نہ ماضی میں پیچھے ہٹے تھے نہ آئندہ پیچھے ہٹیں گے ، ہم ان ظالم حکمرانوں سے اپنے حقوق لے کر دم لیں گے، امیر ضلع ائر پورٹ محمد اشرف نے کہا کہ ملیر ہالٹ سے کینٹ چوک تک سڑک تعمیر کرنا قابض میئرمر تضیٰ وہاب کی ذمے داری ہے لیکن انہوں نے ابھی تک نہیں بنائی ،گزشتہ 5 ماہ سے جماعت اسلامی اس سڑک سے ہیوی ٹریفک کے گزرنے کے خلاف احتجاج اور جدو جہد کر رہی ہے جس کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک نے یہ فیصلہ کیا کہ اس سڑک سے ہیوی ٹریفک نہیں گزرے گی ،اس سڑک پر ٹریفک حادثات روزانہ کا معمول تھا ۔ محمد فارو ق نے کہا کہ جماعت اسلامی اہل کراچی کے ہر مسئلے پر سندھ اسمبلی اور اسمبلی کے باہر آواز اُٹھاتی ہے ، جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے خلاف اہل کراچی کی ایک مؤثر آواز ہے ، عوام کے حق اور مسائل کے حل کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، امیر ضلع ایئر پورٹ محمد اشرف، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق مین کینٹ بازار ڈرگ روڈ اور سعود آباد ملیر میں منعقدہ ممبرز کنونشنز سے خطاب کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اہل کراچی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔