سونے کی قیمت میں آج کمی ریکارڈ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں 2 روزہ وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 10ڈالر کی کمی سے 4ہزار 124ڈالر کی سطح پر آگئی۔
عالمی مارکیٹ میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی دو روزہ وقفے کے بعد بدھ کو 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1ہزار روپے کی کمی سے 4لاکھ 34ہزار 762 روپے کی سطح پر آگئی۔
فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 857روپے کی کمی سے 3لاکھ 72ہزار 738روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 81روپے کی کمی سے 5ہزار 434روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 69 روپے کی کمی سے 4ہزار 658روپے کی سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کی کمی سے کی سطح پر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔