امریکہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں غزہ امن و استحکام کیلئے قرارداد متعارف
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ استحکام فورس کے قیام کے لیے نئی ترمیم شدہ قرارداد پیش کر دی ہے۔ اس قرارداد کے تحت غزہ استحکام فورس ایک بورڈ آف پیس کے تحت قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
اس بورڈ کا مقصد غزہ میں معاشی بحالی کے پروگراموں کی نگرانی اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات کو منظم کرنا ہوگا۔ بورڈ کے تحت مختلف ذیلی ادارے بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ یہ کام مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، امریکی مسودے میں صدر ٹرمپ کا مکمل 20 نکاتی امن منصوبہ شامل کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مصر میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں غزہ کے انتظام کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں انتظامی امور فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے سپرد کرنے کی منظوری دی گئی تھی، لیکن فلسطینی تنظیم حماس نے اس پر اختلاف کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کا انتظام صرف فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے سپرد ہونا چاہیے۔
یہ قرارداد غزہ میں استحکام اور امن کے لیے امریکی کوششوں کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر باضابطہ شکل دینے کی کوشش ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں