لندن اور اوٹاوا نے امریکی فوج کو کیریبین میں مشتبہ منشیات بردار جہازوں کے بارے میں انٹیلی جنس فراہم کرنا روک دیا ہے کیونکہ وہ امریکی ہلاکت خیز حملوں میں شامل ہونا نہیں چاہتے اور ان حملوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق  برطانیہ نے امریکی کو کئی سالوں تک مشتبہ جہازوں کی معلومات فراہم کی تاکہ امریکا کوسٹ گارڈ انہیں روک سکے، عملے کو حراست میں لے سکے اور منشیات ضبط کر سکے ، ستمبر سے امریکی فوج نے جہازوں پر ہلاکت خیز حملے شروع کیے، جس کے بعد برطانیہ کو خدشہ ہوا کہ ان کی فراہم کردہ معلومات حملوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اب تک 76 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بھی کہا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور “بلا مقدمہ قتل” کے مترادف ہیں۔ برطانیہ اس تشخیص سے متفق ہے۔

کینیڈا نے بھی امریکی فوجی حملوں سے فاصلے اختیار کر لیا ہے، حالانکہ وہ امریکی کوسٹ گارڈ کے ساتھ منشیات کی روک تھام کے آپریشنز میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی انٹیلی جنس امریکی ہلاکت خیز حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

یہ فیصلے امریکی اور اس کے قریبی اتحادیوں کے تعلقات میں اہم فرق کو ظاہر کرتے ہیں اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی مہم کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن