افغان پولیس پریڈ میں اسلام آباد کو آگ لگانے کی دھمکیاں
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
لاہور میں جھنڈے گاڑنے جیسے اشتعال انگیز اشعار شامل تھے،سفارتی حلقوں میں تشویش
افغان طالبان کے وزیر نوراللہ نوری نے 7 نومبر کو سندھ اور پنجاب پر حملوں کی دھمکی دی تھی
افغانستان میں پولیس اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران پڑھے گئے پاکستان مخالف ترانوں نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔رپورٹس کے مطابق تقریب کے دوران پڑھے گئے ترانوں میں اسلام آباد کو آگ لگانے اور لاہور میں جھنڈے گاڑنے جیسے اشتعال انگیز اشعار شامل تھے۔تقریب میں پاکستان کے خلاف شدید نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی جس نے سفارتی حلقوں میں سوالات اٹھا دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے وزیر نوراللہ نوری نے 7 نومبر کو سندھ اور پنجاب پر حملوں کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد یہ واقعہ سامنے آیا۔مزید برآں، طالبان انٹیلی جنس سے منسلک ڈیجیٹل میڈیا اکاؤنٹس بھی کئی بار اسلام آباد پر خودکش حملوں کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جس سے پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے پاک افغان تعلقات پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور دہشت گردی کے خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔