ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ نئی تجارتی ڈیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ نئی تجارتی ڈیل کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ ڈیل ماضی سے مختلف ہو گی، ہم تجارتی ڈیل کے بہت قریب ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی سے ہماری بہترین شراکت داری ہے، بھارت روس سے تیل کی خریداری مرحلہ وار ختم کر رہا ہے، ٹیرف میں کمی لاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت انہیں پسند نہیں کرتا تاہم وہ جلد ہی انہیں دوبارہ پسند کرنے لگے گا، سرجیو گور کو بھارت کے لیے امریکی سفیر تعینات کردیا گیا ہے‘ سرجیو گور نے بھارت کے لیے امریکی سفیر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ شام کے صدر کے ترکیے کے صدر اردگان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر شام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔شٹ ڈاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہیں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے، جلد شٹ ڈاؤن ختم ہوجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔