ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ نئی تجارتی ڈیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ نئی تجارتی ڈیل کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ ڈیل ماضی سے مختلف ہو گی، ہم تجارتی ڈیل کے بہت قریب ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی سے ہماری بہترین شراکت داری ہے، بھارت روس سے تیل کی خریداری مرحلہ وار ختم کر رہا ہے، ٹیرف میں کمی لاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت انہیں پسند نہیں کرتا تاہم وہ جلد ہی انہیں دوبارہ پسند کرنے لگے گا، سرجیو گور کو بھارت کے لیے امریکی سفیر تعینات کردیا گیا ہے‘ سرجیو گور نے بھارت کے لیے امریکی سفیر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ شام کے صدر کے ترکیے کے صدر اردگان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر شام کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔شٹ ڈاؤن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہیں ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے، جلد شٹ ڈاؤن ختم ہوجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔