ریاض میں نوجوانوں کیلئے ایک تاریخی ایونٹ، سفیرپاکستان کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں انٹرنیشنل لیڈرز فورم نے انٹرنیشنل کالج فار ٹورازم اینڈہاسپیٹیلٹی ریاض کے تعاون سے نوجوانوں کیلئے ایک تاریخی ایونٹ منعقد کروایا۔ ایونٹ میں سفیر پاکستان احمد فاروق، سید وقاص، حسن عمران، ڈاکٹر امین، احمد حسین، نعمان خان، عابد حسین، شاہد شہزاد، پروفیسر چین، اعجاز چوہدری، رانا کاشف رضا اور کئی بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کی ایونٹ میں پاکستانی، سعودی، انڈونیشین، چینی، سری لنکن، ہندوستانی اور کئی ممالک کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ سفیر پاکستان نے اپنے بیان میں ایونٹ کی اہمیت کو سراہا اور نوجوانوں کیلئے کمیونیکیشن اور لیڈرشپ کی اہمیت پر زور دیا۔ انٹرنیشنل لیڈرز فورم کے بانی سید وقاص نے اپنے بیان میں بتایا کے طلبا کے مستقبل میں اساتذہ کا کردار بہت ہی اہم ہے- ایونٹ کی نمائندگی کے فرائض محمد موسیٰ نے سرانجام دیے۔ تقریری مقابلے میں شامل بچوں نے حاضرین کو بہت متاثرکیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔