کراچی میں بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، 19 سالہ نوجوان چھریوں کے وار سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
شیریں جناح کالونی میں بچوں کی لڑائی بڑوں میں پہنچنے کے نتیجے میں چھریوں کے وار سے 19 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تھانہ بوٹ بیسن کے علاقے شیریں جناح کالونی سلاطین ہوٹل کے قریب تیز دھار آلے کے وار سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
مقتول کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کیلیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں شناخت 19 سالہ حماد اللہ کے نام سے ہوئی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او بوٹ بیسن راشد علی کے مطابق مقتول کی شناخت 19 سالہ حماد اللہ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ بچوں میں ہونے والی لڑائی میں بڑوں کے کودنے کی وجہ سے پیش آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر 4 افراد کو حراست میں لے لیا اور ان سے واقعے سے متعلق مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتول پیش امام کا بیٹا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری پرویز اعوان کا بھتیجا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔