وفاقی آئینی عدالت نے اپنا پہلا اہم فیصلہ سناتے ہوئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ کیس دائر ہونے کے بعد 8 سال تک سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں ہوا، اس لیے اسے نمٹانا ضروری سمجھا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت: 2 نئے ججز جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ نے حلف اٹھا لیا

کیس کی کارروائی کے دوران عدالت نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی وائس چانسلر پروفیسر اسد اسلم کو کام جاری رکھنے کا حکم دے چکی ہے، جبکہ درخواست گزار افتخار احمد نے ان کی تقرری کو چیلنج کر رکھا تھا۔ تاہم آئینی عدالت میں سماعت کے دوران نہ درخواست گزار اور نہ ہی کوئی دوسرا فریق پیش ہوا، جس کے بعد عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں وضاحت کی کہ اگر عدالتی حکم سے کوئی فریق متاثر ہوتا ہے تو وہ آئینی عدالت سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے لیے رجسٹرار کا تقرر کر دیا

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پرو وائس چانسلر کو ہدایت کی تھی کہ وہ فوری طور پر وائس چانسلر کے تمام اختیارات سنبھالیں اور اس منصب پر اس وقت تک برقرار رہیں جب تک باقاعدہ طور پر نئے وائس چانسلر کی تعیناتی عمل میں نہیں آ جاتی۔

یہ فیصلہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے ایک اہم انتظامی معاملے پر دیا گیا پہلا بڑا حکم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عدلیہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عدلیہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت وفاقی آئینی عدالت وائس چانسلر عدالت نے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا