کراچی، کالعدم لشکر جھنگوی کا ٹارگٹ کلر 3 ساتھی دہشتگردوں سمیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار دہشتگرد نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پولیس مخبروں اور ایک شخص عادل حسین کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر اورنگی ٹاؤن میں قتل کیا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے ٹارگٹ کلر سمیت 4 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ کارروائی پولیس مخبروں اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی حالیہ ٹارگٹ کلنگز کے سلسلے میں کی گئی۔ سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق گرفتار ٹارگٹ کلر امین عرف منا حافظ قاسم رشید گروپ کا رکن ہے، اس سے قبل بھی دہشتگردی کے مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے اور جیل جا چکا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار دہشتگرد نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پولیس مخبروں اور ایک شخص عادل حسین کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر اورنگی ٹاؤن میں قتل کیا۔ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ گرفتار دہشتگرد نے یہ بھی بتایا کہ وہ ’سپاری‘ لیکر بھی لوگوں کو قتل کرتا تھا۔ ترجمان کے مطابق دیگر تین گرفتار فرقہ وارانہ دہشتگروں کی شناخت عاصم احمد، زین العابدین اور محمد افروز کے ناموں سے ہوئی، ان کے قبضے سے چار پستول بمعہ گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔
گرفتار دہشتگردوں کے مجرمانہ ریکارڈ کے حوالے سے سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ان کے خلاف دہشتگردی اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات شہر کے مختلف تھانوں میں درج ہیں۔ تفتیش کے دوران گرفتار دہشتگردوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں اورنگی ٹاؤن کے پاکستان بازار تھانے کی حدود میں ایک شخص شہباز خان کو پولیس مخبر ہونے کے شبے میں گولی مار کر قتل کیا، جبکہ عادل حسین کو اقبال مارکیٹ کی حدود میں اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ ان کے مخالف فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فرقہ وارانہ سی ٹی ڈی قتل کیا
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔