بنگلہ دیش میں کریک ڈاؤن؛ 24 گھنٹوں میں 1,649 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش میں ٹربیونل کے حالیہ فیصلے کے بعد ملک گیر بے چینی اور پرتشدد واقعات کے تناظر میں پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 1,649 افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ اعداد و شمار منگل کو پولیس ہیڈکوارٹر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں فراہم کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کا پابند
بیان کے مطابق ملک بھر میں مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 10 اسلحے، 30 کلوگرام سے زائد بارود، گولیاں اور متعدد دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
???? Verdict against Sheikh Hasina and cohorts being read out.
— BDMilitary (@BDMILITARY) November 17, 2025
یہ کارروائیاں اُس فیصلے کے ایک روز بعد تیز کی گئیں جس میں انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے جولائی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
فیصلے کے بعد ڈھاکا سمیت مختلف اضلاع میں آتشزدگی، توڑ پھوڑ اور دھماکوں کے واقعات پیش آئے تھے۔
مزید پڑھیں: اقوامِ متحدہ کا بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں پر پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار
گزشتہ ہفتے کے دوران ملک بھر میں 40 سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر دیسی بموں سے بھی دھماکے کیے گئے۔
صورتحال کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بدامنی کے امکانات کے پیشِ نظر ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک گیر کریک ڈاؤن کا سلسلہ نظم و نسق بحال رکھنے اور سیاسی طور پر حساس فیصلے کے بعد پیدا شدہ حالات کو قابو میں رکھنے تک جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ٹربیونل حسینہ واجد کریک ڈاؤن گرفتاریاں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ٹربیونل حسینہ واجد کریک ڈاؤن گرفتاریاں بنگلہ دیش فیصلے کے کے بعد
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔