گنے کے کرشنگ سیزن 26-2025کے آغاز کیلئے تاریخ کا اعلان ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
سٹی42: پنجاب میں گنے کے کرشنگ سیزن 2025-26 کے باقاعدہ آغاز کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے کی تمام شوگر ملوں کو 15 نومبر 2025 سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ نوٹیفکیشن پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
کین کمشنر پنجاب نے تمام شوگر ملز انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر کرشنگ شروع کریں اور 15 نومبر تک اپنی کمپلائنس رپورٹ جمع کروائیں۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ سے قبل کرشنگ شروع کرنے یا تاخیر کرنے والی ملز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق خلاف ورزی کرنے والی شوگر ملز کو 3 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے یومیہ جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں کم از کم ایک ملین روپے یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
طلبہ کی موج مستیاں ختم، تعلیمی اداروں پر ایک بڑی پابندی عائد
کین کمشنر کے مطابق چینی کی پیداوار میں غیر ضروری تاخیر کو روکنے کے لیے اس سال سخت مانیٹرنگ کی جائے گی۔ پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز اور متعلقہ افسران کو بھی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی ضلع میں نوٹیفکیشن پر عملدرآمد نہ ہوا تو متعلقہ افسران بھی جوابدہ ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔