سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے1 ماہ کے لیے صوبے بھر میں دفعہ144 نافذ کردی، جس کے تحت ہر قسم کے عوامی اجتماع، جلسے، جلوس اور احتجاج پر پابندی ہوگی۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے دفعہ144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کے سیکشن188 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن تمام کمشنرز، ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز اور ڈپٹی کمشنرز، چیف سیکرٹری، وزیر اعلیٰ، گورنر سندھ کے پرنسپل سیکرٹری اور ڈی جی رینجرز کو ارسال کردیا، جس میں خلاف ورزی پر کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ144 کے تحت عاید پابندی فوری نافذ العمل اور1 ماہ کے لیے مؤثر ہوگی۔ محکمہ داخلہ کے مطابق صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجوں اور امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔