سٹی 42: سندھ بھر میں ایک ماہ کے لیے سیکشن 144 نافذ کردی گئی ۔
ہر قسم کے اجتماعات، جلسے، جلوسوں اور احتجاج پر پابندی لگادی ۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔ خلاف ورزی پر کارروائی کا حکم دیا گیا ۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (PPC) کے 188 کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔
نوٹیفکیشن تمام کمشنرز، ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، اور ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کردیے ۔ وزارت داخلہ، چیف سیکریٹری سندھ، وزیر اعلیٰ و گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹریز کو بھی کاپی بھیج دی گئی ۔ ڈی جی رینجرز سندھ کو بھی ضروری کارروائی کے لیے نوٹیفکیشن ارسال کردیا ۔
پی جی ٹرینی ڈاکٹروں کی سنی گئی
سیکشن 144 کے تحت پابندی فوری طور پر نافذ ہوگی ، ایک ماہ کے لیے مؤثر ہوگی۔
محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجوں کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدام ناگزیر تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔