سندھ بھر میں 1 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
محکمہ داخلہ کے مطابق صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجوں اور امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومتِ سندھ نے ایک ماہ کیلئے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت ہر قسم کے عوامی اجتماع، جلسے، جلوس اور احتجاج پر پابندی ہوگی۔ صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ محکمہ داخلہ نے نوٹیفکیشن تمام کمشنرز، ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، اور ڈپٹی کمشنرز، چیف سیکریٹری، وزیراعلیٰ، گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اور ڈی جی رینجرز کو ارسال کر دیا، جس میں خلاف ورزی پر کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عائد پابندی فوری نافذ العمل اور یہ ایک ماہ کیلیے مؤثر ہوگی۔ محکمہ داخلہ کے مطابق صوبے میں بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجوں اور امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ کے مطابق
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔