پنجاب کے مختلف اضلاع کا فضائی معیار انتہائی مضر صحت
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
صبح سویرے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں فضائی معیار انتہائی مضر صحت ہے۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق کچھ دیر پہلے بہاولپور میں پارٹیکولیٹ میٹر کی تعداد 605 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق ملتان کی فضا میں پارٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد 515، فیصل آباد میں 396، گوجرانوالہ میں 338 اور لاہور میں 264 ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق لاہور میں پارٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد 358 ریکارڈ کی گئی ہے۔
نئی دلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست ہے جہاں پر 800 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق 151 سے 200 پرٹیکیولیٹ میٹر آلودگی مضر، 201 سے 300 پرٹیکیولیٹ میٹر انتہائی مضر جبکہ 301 پرٹیکیولیٹ میٹر سے زائد خطرناک آلودگی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انتہائی مضر ریکارڈ کی کے مطابق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔