مالیاتی شفافیت: آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت اور 2 ہفتوں پر مشتمل مشن کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی درخواست پر ملکی مالیاتی نظم و نسق میں بہتری، بجٹ سازی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مالیاتی اعداد و شمار میں موجود مستقل فرق کو ختم کرنے کے لیے تکنیکی معاونت مشن کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ مشن پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے، قوانین، طریقہ کار اور ڈیٹا کے نظم کا تفصیلی جائزہ لے گا تاکہ آئندہ بجٹ سازی کے عمل کو زیادہ شفاف، منظم اور ڈیٹا پر مبنی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے مالیاتی امور کے شعبے سے تعلق رکھنے والی نینو چیلشویلی کی سربراہی میں 4 رکنی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔
یہ مشن 21 نومبر تک جاری رہے گا اور اس دوران وفاقی و صوبائی مالیاتی حکام، وزارتِ خزانہ، اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ وفد کا مقصد پاکستان کے مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانا اور عالمی معیار کے مطابق شفافیت و رپورٹنگ کو فروغ دینا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ وفد بجٹ کے مختلف پہلوؤں ،جیسے فنڈز کی تقسیم، اجرا، رپورٹنگ، ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات، قرضوں کے انتظام، اور مالیاتی ڈیٹا گورننس کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔ اس دوران پبلک فنانس مینجمنٹ قوانین، اندرونی مالیاتی کنٹرول اور خزانے کے نظم و نسق میں بہتری کے لیے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی۔
وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں وفاق اور صوبوں کے درمیان 448 ارب روپے کا شماریاتی فرق سامنے آیا، جس میں وفاقی حکومت کے 93 ارب جب کہ صوبوں کے 354 ارب روپے کے فرق شامل ہیں۔
صوبائی سطح پر پنجاب میں 209 ارب روپے، سندھ میں 47 ارب، خیبرپختونخوا میں 33 ارب اور بلوچستان میں 66 ارب روپے کے فرق کی نشاندہی کی گئی۔ یہ فرق بجٹ کے تخمینوں اور اصل مالیاتی اعداد و شمار کے درمیان تضاد کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے باعث مالیاتی شفافیت متاثر ہوتی ہے۔
آئی ایم ایف مشن ان مالیاتی تفریق کے اسباب اور ان کے ازالے کے لیے تجاویز تیار کرے گا۔ مزید برآں یہ وفد ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کی رپورٹنگ کے نظام کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع سفارشات پیش کرے گا تاکہ پاکستان کے مالیاتی ڈیٹا کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے آخری مراحل میں ہیں۔ یہ رپورٹ دسمبر میں ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل پیش کی جانا لازم قرار دی گئی ہے، جو پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت، گورننس اور بدعنوانی کے انسداد سے متعلق اہم سفارشات پر مبنی ہوگی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کا یہ تکنیکی مشن مستقبل میں پاکستان کے بجٹ سازی کے عمل کو مزید منظم اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے نہ صرف حکومتی مالیاتی اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں میں پاکستان کے اعتماد میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے مالیاتی آئی ایم ایف کے مطابق ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔
لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔