فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2026 GMT
دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے فیفا فٹبال ورلڈکپ(FIFA World Cup) 2026 کا آغاز 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہوگا۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث ٹورنامنٹ پہلے سے زیادہ طویل، دلچسپ اور غیر متوقع نتائج کا حامل ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق اس بار 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ہوں گی۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو اسے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بنا دیتے ہیں۔
نئے فارمیٹ کے تحت ہر گروپ سے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیمیں براہ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔ اس بار پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید سخت ہوتا جائے گا۔
ٹورنامنٹ میں دنیا کی بڑی فٹبال ٹیمیں ایک بار پھر ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی، تاہم ماہرین کے مطابق 48 ٹیموں کی شمولیت کے باعث کسی بھی واضح فیورٹ کا تعین کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں اوپٹا سپر کمپیوٹر نے جدید ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل کے ذریعے ورلڈکپ کی پیشگوئی کی ہے۔ یہ ماڈل ہزاروں بار ٹورنامنٹ کے ممکنہ نتائج کو ڈیجیٹل طور پر سمولیٹ کر کے نتائج اخذ کرتا ہے اور ہر ٹیم کے جیتنے، فائنل تک پہنچنے اور ناک آؤٹ مرحلے میں کارکردگی کے امکانات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
سپر کمپیوٹر کے مطابق اس بار فیورٹ ٹیموں میں اسپین سب سے آگے ہے، جس کے ورلڈکپ جیتنے کے امکانات 16.
اعداد و شمار کے مطابق یہ چاروں ٹیمیں وہ ہیں جن کے امکانات دیگر ٹیموں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم ماڈل یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسپین کے لیے ٹائٹل جیتنے کا راستہ آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان بھی 52 فیصد سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپین کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کی صورت میں سیمی فائنل تک رسائی کا امکان تقریباً 39 فیصد اور فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہے، جو اسے ایک مضبوط مگر غیر یقینی پوزیشن میں رکھتا ہے۔
48 ٹیموں کی شمولیت نے ورلڈکپ کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جہاں کسی بھی بڑے اپ سیٹ کا امکان پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے، اور یہی اس ٹورنامنٹ کو خاص اور دلچسپ بناتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فائنل تک سے زیادہ کا امکان کے مطابق گیا ہے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔