پائیدار ترقی کے خواب کے لیے امن و استحکامت ضروری ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ماسکو میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کا انحصار خطے میں امن و استحکام پر ہے اور خطے کی خوشحالی سب کا مشترکہ ہدف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس سی او نے خطے میں معاشی خوشحالی کی بنیاد رکھی ہے اور رکن ممالک کے درمیان منظم روابط انتہائی اہم ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان معاشی روابط کو عملی شکل دینے کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں تجارتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کی ترقی پر بھی زور دیا تاکہ خطے میں مستحکم اور پائیدار ترقی ممکن ہو سکے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم نے پاکستان کا موقف واضح کیا اور علاقائی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اقتصادی منصوبوں کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔