بلوچستان کے دیہی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس 16 نومبر تک معطل
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے کے دیہی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام 16 نومبر تک نافذ العمل رہے گا۔ اس دوران بلوچستان کے تمام دیہی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل رہیں گی، تاہم شہری علاقوں کو اس فیصلے سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہاں ڈیٹا سروس حسبِ معمول فراہم کی جاتی رہے گی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں میں صوبے کے بعض علاقوں میں سیکورٹی خدشات اور اطلاعات موصول ہوئیں، جن کی بنیاد پر انتظامیہ نے پیشگی اقدام کے طور پر موبائل ڈیٹا سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس معمول کے مطابق جاری رہے گی تاکہ روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے، تاہم دیہی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش کے باعث عوام کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن ذرائع تک رسائی محدود رہے گی۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ سیکورٹی اداروں کی مشاورت سے کیا ہے تاکہ ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے جو سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کے ذریعے افواہیں پھیلانے یا اشتعال انگیز مواد کے ذریعے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے مطابق موبائل کالز اور ایس ایم ایس سروسز معمول کے مطابق چلتی رہیں گی اور صرف ڈیٹا سروس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی سروسز بحال کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب، شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے باعث تعلیمی سرگرمیوں، آن لائن کاروبار اور رابطے کے دیگر ذرائع متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے ممکنہ حد تک اس پابندی کا دائرہ محدود رکھا جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل کی جاتی رہی ہیں، خاص طور پر مذہبی یا سیاسی اجتماعات کے موقع پر۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوام کے تحفظ اور سیکورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات پر یقین کریں۔ حکام کے مطابق حالات معمول پر آتے ہی دیہی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس بحال کر دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس دیہی علاقوں میں موبائل کے مطابق
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔