data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے کے دیہی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام 16 نومبر تک نافذ العمل رہے گا۔ اس دوران بلوچستان کے تمام دیہی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل رہیں گی، تاہم شہری علاقوں کو اس فیصلے سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہاں ڈیٹا سروس حسبِ معمول فراہم کی جاتی رہے گی۔

محکمہ داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں میں صوبے کے بعض علاقوں میں سیکورٹی خدشات اور اطلاعات موصول ہوئیں، جن کی بنیاد پر انتظامیہ نے پیشگی اقدام کے طور پر موبائل ڈیٹا سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس معمول کے مطابق جاری رہے گی تاکہ روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ آئے، تاہم دیہی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش کے باعث عوام کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن ذرائع تک رسائی محدود رہے گی۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ سیکورٹی اداروں کی مشاورت سے کیا ہے تاکہ ایسے عناصر کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے جو سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کے ذریعے افواہیں پھیلانے یا اشتعال انگیز مواد کے ذریعے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

محکمہ داخلہ کے مطابق موبائل کالز اور ایس ایم ایس سروسز معمول کے مطابق چلتی رہیں گی اور صرف ڈیٹا سروس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ اقدام عارضی نوعیت کا ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی سروسز بحال کر دی جائیں گی۔

دوسری جانب، شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے باعث تعلیمی سرگرمیوں، آن لائن کاروبار اور رابطے کے دیگر ذرائع متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے ممکنہ حد تک اس پابندی کا دائرہ محدود رکھا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل کی جاتی رہی ہیں، خاص طور پر مذہبی یا سیاسی اجتماعات کے موقع پر۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوام کے تحفظ اور سیکورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

صوبائی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات پر یقین کریں۔ حکام کے مطابق حالات معمول پر آتے ہی دیہی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس بحال کر دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس دیہی علاقوں میں موبائل کے مطابق

پڑھیں:

مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے

لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع