لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو خاتون نور بی بی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے اسلام قبول کرنے کے بعد شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے نکاح کرنے والی بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور (نور بی بی) کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے نور بی بی (سربجیت کور) اور اس کے شوہر کو ہراسانی سے روکنے کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مذہبی رسومات کےلیے آئی بھارتی سکھ خاتون نے قبول اسلام کے بعد ناصر سے نکاح کیا ہے۔
مذہبی تہوار کے سلسلے میں بھارت سے آئی سکھ خاتون نے بھارت واپس جانے سے انکار کردیا۔ اسلام قبول کرکے پاکستانی شہری سے شادی کرلی۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ 8 نومبر کو پولیس نے درخواست گزار کے گھر پر غیرقانونی چھاپہ مارا اور خاتون پر شادی ختم کرنے کےلیے دباؤ ڈالا۔
درخواست کے مطابق خاتون نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ہے، پولیس حکام کے پاس درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارنے کا اختیار نہیں۔
سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے پولیس کو نور بی بی کو ہراساں کرنے سے روک دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام قبول
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔