اذان سمیع خان کیسی خاتون سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟ اداکار نے دل کی بات بتادی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) معروف اداکار و گلوکار اذان سمیع خان نے کہا ہے کہ ان کی کوئی ذاتی ضرورت نہیں، اور وہ کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شادی نہیں کریں گے۔
انہوں نے یہ بات ایک حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران کہی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، محبت اور شادی کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔
اذان سمیع خان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت سنگل ہیں اور کسی کی تلاش میں نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شادی کرچکے ہیں اور چھ سال تک ازدواجی رشتے میں رہے، لیکن اب دوبارہ شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔
گلوکار نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ “میری کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی میں کسی ضرورت کو پورا کرنے کے چکر میں ہوں۔”
ان کا کہنا تھا کہ اب وہ بچے نہیں رہے، اس لیے محبت کا تصور بھی پہلے جیسا نہیں رہا اور ان کی توجہ صرف کیریئر پر ہے۔
اذان سمیع خان نے مزید کہا کہ وہ جانتے ہیں شادی کے بعد وقت اور توجہ بانٹنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے فی الحال وہ کیریئر پر فوکس رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کبھی شادی کی تو وہ کسی سچی اور مخلص خاتون سے ہی کریں گے۔
ان کے مطابق بعض ضرورتوں کو پورا کرنے میں انسان کی توانائی ضائع ہو جاتی ہے، اور فی الحال ان کے پاس اتنی توانائی نہیں کہ وہ کسی رشتے میں خود کو الجھائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔